انوارالعلوم (جلد 1) — Page 409
۱۔دو زرد چادروں کے ساتھ اترے گا۔۲- دو فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اترےگا۔۳۔کافر اس کے دم سے مریں گے۔۴۔ایسا معلوم ہو گا کہ ابھی ابھی حمام سے نکلا ہے اور پانی کےقطرے اس کے سر کے بالوں سے موتیوں کی طرح ٹپک رہے ہوں گے۔۵- دجال کے بالمقال خانہ کعبہ کا طواف کرے گا۔۲۔صلیب کو توڑے گا۔۔۔خنزیر کو قتل کرے گا۔۸۔ایک بیوی کرے گا اس سے اولاد اس کے لئے ہوگی۔۹- دجال کو قتل کردے گا۔۱۰۔مسیح موعودؑ طبعی موت سے مرے گا اورآنحضرت ﷺ کے مقبرہ میں دفن ہو گا۔اس کی تشریح میں حضرت مسیح موعودؑ ہی کی تحریر سے پیش کر تا ہوں۔(۱) دو زرد چادریں وہ دوبیماریاں ہیں (دیکھو کتب تعبیرالر یا )جو بطور علامت کے مسیح موعودؑ کے جسم کو ان کا روزِازل سےلاحق ہو نامقد ر کیا گیا تھا تاکہ اس کی غیر معمولی صحت بھی ایک نشان ہو۔(۲) دو فرشتوں سے مراد اس کے لئے دو قسم کے غیبی سہارے ہیں جن پر اس کی اتمام حجت موقوف ہے ایک وہبی علم متعلق عقل اور نقل کے ساتھ اتمام حجت جو بغیر کسب اور کتساب کےاس کو عطا کیا جائے گا دو سری اتمام حجت نشانوں کے ساتھ جو بغیر انسانی دل کے خدا کی طرف سےنازل ہوں گے۔(۳) کا فروں کو دم سے مارنا اس سے یہ مطلب ہے کہ مسیح موعودؑ کے نفس یعنی اس کی توجہ سےکافر ہلاک ہوں گے۔(۴) اور سر کے بالوں سے موتیوں کی طرح قطرے ٹپکنا اس کشف کے یہ معنی ہیں کہ مسیح موعودؑ اپنی بار بار توبہ اور تضرّع سے اپنے اس تعلق کو جو اس کو خدا کے ساتھ ہے تازہ کرتارہے گاگویا وہ ہر وقت غسل کرتا ہے۔ورنہ جسمانی سال میں کون سی خاص خوبی ہے اس طرح تو ہندو بھی ہر روز صبح کو غسل کرتے ہیں اور غسل کے قطرے بھی ٹپکتے ہیں۔(۵) اور طواف خانہ کعبہ وہ یہ ہے کہ آخری زمانہ میں ایک گروہ پیدا ہو گا جس کا نام دجال ہےوہ اسلام کا سخت دشمن ہو گا اور وہ اسلام کو نابود کرنے کے لئے جس کا مرکز خانہ کعبہ ہے چور کی طرح اس کے گر و طواف کرے گا تا اسلام کی عمارت کو بیخ دبن سے اکھاڑ دے۔اس کے مقام پر مسیح موعودؑ بھی مرکز اسلام کا طواف کرے گا جس کی تمثیلی صورت خانہ کعبہ ہے اور اس طواف سےمسیح موعود ؑ کی غرض یہ ہوگی کہ اس چور کو پکڑے جس کا نام د جال ہے اور اس کی دست درازیوں سے مرکز اسلام کو محفوظ رکھے۔