انوارالعلوم (جلد 1) — Page 405
انوار العلوم جلد ! ۴۰۵ خدا کے فرستادہ پر ایمان لاؤ سوال کا یہ جواب دیا جا سکتا ہے کہ جماعت احمد یہ ۔ جب کہ احمدیہ - جب کسی پادری سے سے مباحثہ ہو ۔ جب یہ سوال ہو کہ اسلام میں دوسرے مذہبوں سے کیا امتیاز ہے تو اس کا جواب دینے کے لئے صرف یہی جماعت جرأت کے ساتھ کھڑی ہو سکتی ہے۔ اور اس کا ہر ایک فرد بتا سکتا ہے کہ اسلام کا دار ومدار قصے اور کہانیوں پر نہیں بلکہ اس وقت بھی وہ وہی نشان دکھا سکتا ہے جو اگلے انبیاء و اولیاء نے اپنے صدق کے ثبوت میں دکھائے ۔ آخر یہ سب کچھ کسی مرد خدا کی قوت قدسیہ کے طفیل ہے اس کے جو و مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ (الصف: ٧) - الآيہ - وَ يُسَمَّى بِاسْمِ نَبِيِّكُمْ ( من ابی داؤد جلد سوئم کتاب المهدی صفحہ ۳۲۷) کی پیشگوئی کے مطابق احمد کے نام سے نبی کریم ا کا ایک غلام بن کر آیات بینات کے ساتھ آیا۔ ام 1 ان آیات بینات میں سے ایک یہ ہے کہ وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيْلِ لَا خَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِيْنِ - (الحاقہ : ۴۵-۲۷ ) کہ اگر ہم پر افتراء کرے تو دائیں ہاتھ سے گرفت کر کے رگ جان کاٹ دیں۔ آپ کا الہام بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت برکت ڈھونڈیں گے ۱۸۶۸ء کا ہے۔ ۱۹۰۸ء تک آپ اپنے دعوے پر مؤکد قسموں کے ساتھ قائم رہے۔ اور اتنی مدت میں کامیابی پر کامیابی دیکھی کیا کوئی مفتری ہو کر یہ فلاح پا سکتا ہے۔ کیا اتنے سال جو نزول قرآن کے زمانہ ۲۳ سال سے بھی بہت زیادہ ہے ہر روز نئے سے نئے افتراء کر کے دعوائے نبوت و رسالت کے ساتھ کبھی کوئی شخص کامیابی کے ساتھ زندہ رہا ہے کیا تاریخ کوئی نظیر پیش کر سکتی ہے ؟ ہرگز نہیں اگر ایسا ہو تو جھوٹے اور بچے نبیوں میں امتیاز ہی اٹھ جائے ۔ ایک معمولی دنیاوی سلطنت میں جس کے اختیار اور علم و اخبار کا ذریعہ بہت ہی محدود ہے ۔ کوئی جعلی تحصیل دار بن کر سکھ نہیں پا سکتا تو خدا کی گورنمنٹ میں کوئی مصنوعی پیغمبر کب سکھ پا سکتا ہے۔ سوچنے کی بات ہے۔ ۴ (دوم) پھر دیکھو! اللہ تعالیٰ نے جیسا کہ اس کی اپنے رسل و انبیاء کے ساتھ سنت جاریہ ہے۔ آپ پر اس کثرت و صفائی کے ساتھ غیب کا اظہار کیا کہ تاریخ انبیاء اور انبیاء میں سے خاص انبیاء کے سوا کوئی اور نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔ چنانچہ نہایت بے بسی و گمنامی کی حالت میں خدا نے آپ پر وحی نازل کی - يَأْتِيْكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ يَاتُوْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ يَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُوحِي إِلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاءِ وَلَا تُصَمِّرَ لِخَلْقِ اللَّهِ وَلَا تَسْلَمُ مِنَ النَّاسِ دیکھو براہین احمد یہ مطبوعہ ۱۸۸۱ء صفحہ ۲۴۱- کہ ہر ایک راہ سے لوگ تیرے پاس آئیں گے۔ اور ایسی کثرت سے آئیں گے کہ وہ راہیں جن پر وہ چلیں گے عمیق ہو جائیں گی۔ تیری مدد وہ لوگ کریں گے جن