انوارالعلوم (جلد 1) — Page 395
انوار العلوم جلدا ۳۹۵ جواب اشتہار غلام سرور کانپوری ہیں۔ تو باقی خصوصیتوں کے بھی ایسے معنی ہو سکتے ہیں کہ جن میں حضرت مسیح کے علاوہ دوسرے لوگ شامل ہوں)۔ اس کے ساتھ ہی حافظ روشن علی صاحب نے فرمایا کہ اچھا آپ کی بات مان کر ہی کہ قبر میں دفن ہونا ہی حضرت مسیح کی شناخت کا نشان ہے ۔ یہ ماننا پڑے گا کہ جب تک حضرت مسیح فوت نہ ہوں ان کو کوئی نہ مانے کیونکہ جب وہ رسول اللہ اللہ کی قبر میں دفن کئے جاویں گے تب تو ان کی شناخت ہوگی ۔ اس حدیث کے یہ معنی ہیں کہ مسیح موعود چونکہ رسول اللہ ﷺ کا خادم ہے اور نہایت مقرب خادم ہے۔ اس لئے اس کو اسی جنت میں جگہ ملے گی جس میں رسول اللہ ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ الْقُبْرُ رَوْضَةً مِّنْ ضَةً مِّنْ رِّيَاضِ الْجَنَّهِ یعنی قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہوتا ہے۔ (جامع العلوم کی طرف سے جو اشتہار دیا گیا ہے اس میں حافظ روشن علی صاحب نے جو حدیث بتائی تھی الْقَبَرُ رَوْضَةً مِّنْ رِّيَاضِ الْجَنَّةِ۔ اس کو غلط کر کے یوں لکھا گیا ہے ۔ کہ حافظ صاحب نے فرمایا قَبْرِي رَوْضَةً مِّنَ الْجَنَّةِ حافظ محمد یوسف صاحب ۔ یہ حدیث بالکل غلط ہے۔ ان الفاظ کے ساتھ کہیں موجود نہیں۔ بلکہ حدیث یوں ہے ۔ مَا بَيْنَ قَبْرِی وَ مِنْبَرِی رَوْضَةً مِّنْ رِّيَاضِ الْجَنَّةِ یہ کہہ کر آپ نے بہت بہت کچھ شور مچایا ۔ اور کہا کہ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأُ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ۔ يعني جو جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں کرلے ۔ (حالانکہ جو حدیث مولوی محمد یوسف صاحب نے فرمائی وہ اور حدیث تھی اور جو حافظ روشن علی صاحب نے فرمائی وہ اور تھی چنانچہ اس کا ثبوت آگے چل کر دیا جائے گا۔) حافظ روشن علی صاحب نے ان کے اس غیر مہذبانہ برتاؤ کے جواب میں فرمایا کہ یہ یہ حدیث ہے اور بالکل سچ ہے ۔ ہم ۔ ہے۔ ہم سفر میں ہیں ہمارے پاس کتا بیں نہیں آپ لکھ لیں ہم اس کا پورا پورا حوالہ لکھ دیں گے انشاء اللہ العزیز اس کے بعد جماعت طلباء اپنی خیالی فتح کا اظہار کرتے ہوئے رخصت ہوئے ۔ اب ان باتوں سے ناظرین خود اندازہ کر سکتے ہیں کہ فتح کس کی تھی۔ ہمیں فتح و شکست سے کچھ غرض نہیں۔ حق بتانا ہمارا کام ہے۔ اور ہماری خواہش ہے اگر طلباء جامع العلوم یا ان کے استادوں کو فتح کے نام سے کچھ حاصل ہوتا ہے تو وہ بیشک ڈنکے بجائیں۔ ہمیں تو وہ شکست جس میں راستی کو ملحوظ رکھا گیا ہو اس فتح سے بدرجہا پیاری ہے جس میں واقعات پر پردہ ڈالا گیا ہو۔ یہ تو ہم ثابت کر ہی چکے ہیں کہ یہ حدیث