انوارالعلوم (جلد 1) — Page 384
انوار العلوم جلد ! ۳۸۴ مدارج تقوی ہے۔ محسن متقی کے لئے یہ انعام دنیا میں ہیں۔ اور آخرت میں اس سے بھی بڑھ کر پائے گا۔ وَأَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةُ متقی کو ابتلاء بھی آتے ہیں۔ مگر گھبرانا نہیں چاہئے۔ بلکہ ثابت قدم رہنا ضروری ہے۔ اگر تمہیں ایک جگہ تکلیف ہے تو خدا کی زمین کھلی ہے دوسرے مقام پر ہجرت ہو سکتی ہے۔ اور صبر سے کام لینے والوں کو بغیر حساب کے رزق دیا جاتا ہے۔ بادشاہ کے پاس بہت نعمتیں ہیں مگر پھر بھی اس کو کئی صابر کو بے حساب رزق دیا جاتا ہے دکھ ہیں۔ لیکن صابر پر اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہوتا ہے وہ اس سے وعدہ فرماتا ہے کہ میں تجھے بے حساب دوں گا اور یہ سب اجر ہے اس بات کا کہ صابر خدا کے حضور اپنی اطاعت کی گردن ڈال دیتا ہے۔ اس کے فرمانوں کی بجا آوری پر ثابت قدم رہتا ہے۔ اور ہر ابتلاء کے وقت آگے قدم بڑھاتا اور دوسری مخلوق کو بھی یہی تعلیم دیتا ہے اب ان آیات کو پڑھ کر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ احکام لوگوں کے لئے ہی ہیں یا خود رسول اللہ کو بھی یہ حکم دیئے گئے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللَّهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّينَ وَأُمِرْتُ لِانْ أكُونَ أَوَّلَ الْمُسْلِمِينَ (الزمر: ۱۲ (۱۳) مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں دین کو اس کے لئے خالص کرکے۔ اور مجھے حکم دیا گیا کہ میں فرمانبرداروں میں اول نمبر پر رہوں۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ حکم رسول کریم ان کے لئے بھی یکساں ہیں۔ اس کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا رسول کریم ﷺ نے اس حکم پر عمل بھی کیا کہ نہیں۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ قُلِ اللَّهَ أَعْبُدُ مُخْلِصًا لَهُ دِينِي - (الرز م: ۱۴-۱۵) کہ کہ میں اپنے رب کی نافرمانی کرتے ہوئے عذاب عظیم سے ڈرتا ہوں اور کہہ کہ میں اللہ تعالٰی کی عبادت کرتا ہوں اور کسی کو اس کی اطاعت میں شریک نہیں کرتا۔ ان آیات میں نبی کریم نے اپنی پاک زندگی کو پیش کیا ہے۔ اور ڈنکے کی چوٹ کہا ہے کہ میرا خدا سے تعلق ہے۔ کوئی ہے جو میری زندگی پر عیب لگائے ۔ آریہ زینب کے نکاح کے بارے میں شور ڈالتے ہیں۔ اور عیسائی آپ کو ڈاکو وغیرہ کہتے ہیں۔ (نعوذ بالله ) حالانکہ یہ اس وقت موجود نہ تھے۔ اور نہ ان کے پاس معتبر ذرائع سے کوئی خبر پہنچی ہے۔ جو لوگ اس وقت زندہ گواہ تھے ان کو تو اس زور سے چیلنج دیا گیا کہ میری زندگی پاک ہے کوئی ہے جو عیب لگائے۔ میں تو اللہ کی مخلصانہ فرمانبرداری کرتا ہوں ۔ فَاعْبُدُوا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دونم (الزمر:۱۲) تم اس کے سوا کسی اور کی بندگی کر کے دیکھ لو۔ کوئی سکھ ملتا ہے۔ ہرگز نہیں۔ بلکہ