انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 382 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 382

انوار العلوم جلد ! ۳۸۲ مدارج تقوی کی پیشگوئی پوری ہو گئی۔ کیونکہ پہلے ہی خدا نے فرما دیا تھا کہ یہ چھوٹی عمر میں اس کے حضور واپس بلا لیا جائے گا۔ یہ صبر و شکر آپ کا بلکہ دوسروں کو صبر و شکر کی تعلیم کوئی سنگدلی کی وجہ سے نہیں تھی۔ نرم دلی کا تو یہ عالم ہے کہ آ۔ عالم ہے کہ آپ بچہ کی تکلیف دیکھ کر رات کو بھی نہیں سو سکتے۔ یہاں تک کہ اس کی بیماری میں خدمت کرتے کرتے خود بیمار ہو گئے ۔ مگر جب وہ وفات پاتا ہے تو آپ خوش ہو ۔ ہوتے ہیں کہ خدا کی امانت تھی خدا کے پاس پہنچ گئی۔ اور پھر اس سرور کا اثر آ۔ آپ کے چہرہ مبارک ۔ مبارک سے بھی ظاہر ہے۔ اور آپ خط پر خط لکھ رہے ہیں اور تقریر پر تقریر کئے جا رہے ہیں کہ خدا کا بڑا فضل بڑا احسان ہوا۔ تم لوگوں کو بھی شکر بجالانا چاہئے ۔ آپ کو اپنے بیٹے کی فکر نہیں پڑی بلکہ لوگوں کی فکر پڑی کہ شاید اسی راہ سے میرے مولی کا جلال دنیا پر ظاہر ہو ۔ یہ درجہ محسن کا ہے ۔ ان تینوں مرتبوں کا ذکر اس آیت میں ہے۔ تقوی کے ہر سہ مراتب کا ذکر قرآن میں لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصُّلِحَتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصُّلِحَتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَ أَحْسَنُوا وَاللهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (مائده: (۹۴) پہلا درجہ اتقاء کا تو ایمان و عمل صالح ہے جو صابر متقی کی شان ہے ۔ پھر تقویٰ کریں۔ اور ایمان پر ایمان پر ثابت قدم ہوں یہ شاکر متقی کا ذکر ہے ۔ پھر تقوی کریں اور احسان میں بڑھیں ۔ یہ محسن متقی کی شان ہے اور اللہ محسنوں کو اپنا محبوب بنا لیتا ہے۔ اس جگہ پہلے دو درجوں کا نام نہیں۔ لیکن قرآن شریف کے دوسرے مقاموں سے معلوم ہوتا ہے کہ محسن سے پہلے صابر و شاکر ہی کا درجہ ہے۔ خدا تعالیٰ آپ لوگوں کو تینوں درجور کا متقی بنائے۔ تقوی کوئی آسان بات نہیں ہے کہنا تو کا آسان ہے پر کرنا مشکل ۔ دیکھو تم وعدہ کر چکے ہو دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے۔ پس ضروری ہے کہ اس پر ثابت قدم رہو اور اعمال صالحہ میں ترقی کرد۔ نماز فرض ہے۔ بہت سے احمدی کی نمازوں کو باجماعت ادا کرنے میں مست ہیں۔ نماز دین کا ستون ہے۔ اور مجھ سے کوئی پوچھے تو قرآن شریف سے یہ بات ثابت ہے کہ نماز بغیر جماعت نماز کے ہوتی ہی نہیں ۔ سوائے اس صورت کے کہ کوئی عذر شرعی ہو۔ دوسرے درجے پر زکوۃ ہے۔ زکوۃ میں بہت سے بھائی کمزوری دکھاتے ہیں۔ حضرت ابو بکر کے زمانہ میں جب فتنہ ارتداد پھیل گیا۔ اور صرف گاؤں میں نماز با جماعت رہ گئی۔ زكوة اور لشکر بھی شام کو بھیج دیا گیا۔ تو بھی آپ نے زکوٰۃ دینے والوں کے نام ارشاد بھیجا کہ رسول اللہ