انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 370 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 370

منہمک رہ جاتا ہے تو ایسے جوش کے وقت بھی نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہوتا ہے۔کہ اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا‏ پڑھ لیا کرو۔غرض کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔تاریخی شہادت کی حاجت نہیں۔صرف قرآن مجید ثابت کرتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کا ہر قول وفعل خداکے لئے تھا اور آپ ﷺ کی زندگی پاک و مطہر تھی۔قرآن مجید سے پہلے اعوذ پڑھنے کی تعلیم میں حکمتلوگ مذاہب بناتے ہیں کوئی کہتاہے کہ گدی بن جائے، کسی کوحکومت کا شوق ہوتا ہے، کسی کو دولت جمع کرنے کا خیال - غرض مختلف وجوہات ہیں جن سے لوگ دین اختیار کرتے ہوں گے۔کوئی عیسائی بنتا ہے تو اسے یہ بھی خیال آتا ہو گا کہ میرے ضلع کے ڈپٹی یا میرے صوبہ کے لیفینینٹ گورنر یا میرے ملک کے وائسرائے خوش ہو جائیں گے۔مگر محمد رسول اللہ ﷺ وہی تعلیم دیتا ہے جس سے خدا کا قرب خدا کی خوشنودی حاصل ہو۔وہ اپنے پیرؤوں کوتعلیم دیتے وقت ارشاد فرماتا ہے کہ شاید تمهارے دل میں کوئی وسوسہ آجائے۔اس لئے اعوذ اوربسم اللہ پڑھ لینی چاہئے۔جن کو محض اپنا مذہب پھیلانے کا شوق ہوتا ہے وہ تو کہتے ہیں کہ ہمارےمذہب میں داخل ہو خواہ کسی طرح۔مگر یہاں ارشاد ہے کہ یہ دروازه عشق الہٰی کا ہے اس میں شیطانی ملونی سے نہ آؤ۔بلکہ شیطان پر لعنت بھیج کر اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگ کر ،پھر یہ اَعوذ نہ صرف ابتداء میں ہے۔بلکہ انتہاء میں بھی یہی ارشاد ہوتا ہے کہ قل أعوذ برب الناس پڑھ لو۔جس سے یہ مراد ہے کہ الہٰی میں نے تیری کتاب کو پڑھاہے۔ممکن ہے کہ کئی قسم کے قصور سرزد ہوئے ہوں۔اپنی عظمت کا خیال آگیا ہو کہ میں صوفی بن جاؤں ،لوگ مجھے بزرگ کہیں، میرے پاؤں چومیں ، پس اپنے رب کی پناہ میں آکر عرض کرتا ہوں کہ محض اسی کی محبت ہو جس کی خاطر میں لوگوں کو اس کی تلقین کروں۔قرآن مجید کی تعلیم کا خلاصہیوں تو سارا قرآن مجید تقویٰ کی تعلیم سے لبریز ہے مگر جو آیت میں نے آپ لوگوں کے سامنے پڑھ کر سنائی ہے۔اس میں بھی ایک خاص رنگ میں تقویٰ کی ہی تعلیم دی گئی ہے۔جس سے اس بات کا ثبوت مل سکتا ہے کہ نبی کریمﷺ کی زندگی کیسی پاک اور تقوی ٰسے لبریز تھی۔بلکہ میرا مطلب یہ ہے۔کہ یہ پاک تعلیم اسی کو مل سکتی تھی جو خود تقویٰ سے معمور ہو۔اس لئے اس کتاب سے رسول اللہ ﷺکی قلبی کیفیت ہم معلوم کر سکتے ہیں۔کیاہی خوش قسمت تھے وہ لوگ جنہوں نے یہ پاک کلام خود رسول اکرم