انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 361

( Germs) منہ میں داخل نہ ہو سکیں لیکن خورد بینی اجرام کو یہ رکاو ٹیں کب روک سکتی ہیں اورانسان خواہ کتنی ہی کوشش کرے ان کی ہلاکت سے کب محفوظ رہ سکتا ہے۔پس یہ خیال کہ مسلمان یا مسیح قومیں جانداروں کو ہلاک کر تی ہیں غلط ہے آریہ بھی روزانہ ہزاروں پر وٹوزواکاخون کرتے ہیں اور ان کے مذہب کی رو سے انسانی روح اور ان کیڑوں کی روح میں کچھ فرق نہیں۔اسی طرح موتی، ریشم اور مشک ایسی اشیاء ہیں کہ جو بغیر جان لینے کے حاصل ہو ہی نہیں سکتے اور مشک کا استعمال تو ہندؤوں کی عبارتوں کا ایک جزو ہے۔سل کا علاج مچھلی کا تیل ثابت ہوا ہے اسی طرح معدہ کی مختلف بیماریوں کے لئے پیسین بے نظیردوائی مانی گئی ہے جو کہ معدہ کے گلینڈز کا رس ہوتا ہے مگر میں نہیں جانتا کہ ان مفید دواؤں کےاستعمال سے آریہ پر ہیز کریں گے۔اسی طرح انسان کی پیدائش میں تین مختلف کیڑوں کی ہلاکت رکھی گئی ہے انسان کی منی میں بہت سے سپر میٹوزوا پائے جاتے ہیں اور انہی میں سے ایک کا بچہ بنتا ہے۔اور وہ رحم مادر میں بیج کا کام دیتا ہے لیکن باقی سب کے سب فنا ہو جاتے ہیں مرجاتے ہیں یا غذا بن جاتے ہیں اب بتایئے اس کا علاج کیا ہو سکتا ہے۔سینکڑوں دفعہ انسان اپنی عمرمیں جماع کرتا ہو گا۔اور اس سے کوئی بچہ پیدا نہیں ہوتا۔تو ہر دفعہ وہ کئی جانوں کا قاتل بنتا ہے لیکن آریہ اس پر اعتراض نہیں کرتے۔چونکہ شہوت انسان کے اندر ایک زبردست طاقت رکھی گئی ہے اس لئے اس خون سے بچنا تو انسان کی طاقت سے باہر ہے ہر ایک انسان کو اس میں مبتلا ہو نا پڑے گا۔اور اگر انسان جماع کرنا ہی چھوڑ دیں تو پھر نسل انسانی کاخاتمہ ہے۔اور اگر ایک جماع میں ایک بچہ بھی پیدا ہو تب بھی بہت سے سپرمیٹو ز وابے فائدہ ہلاک ہو جائیں کے پسں نہ صرف یہ کہ انسان و حیوان کو زندگی کے مختلف اوقات میں اپنی جان کی حفاظت کے لئے مختلف جانوں کا خون کرنا پڑ تا ہے بلکہ انسان و حیوان کی نسل ہی تب چل سکتی ہے جبکہ بعض جانوں کا خون کیا جائے اب اگر یہ فعل ظلم ہے تو اس ظلم کا پانی نعوذ باللہ پرمیشور ہے جس کی طرف ظلم کا منسوب کرنا ایک کبیرہ گناہ ہے اس لئے ماننا پڑے گا کہ یہ ظلم نہیں ہے۔حیوان تو حیوان بعض پودوں کو بھی اپنی پرورش کے لئے جان لینی پڑتی ہے چنانچہ فلائی ٹریپ ایک پودا ہو تا ہے کہ جس کے پتوں میں ایک خاص حس ہوتی ہے اور جس وقت ان پر کوئی کیڑا آکربیٹھے تو وہ چھوئی موئی کے بیورو کی طرح اپنے پتوں کو سکیٹر لیتا ہے اور اس کو کھا جا تا ہے۔اور بغیر اس کے اس کی کامل پرورش ہوتی ہی نہیں ہے کیونکہ اگر کیڑوں کو نہ کھائیں تو کافی نائیٹروجن ان کے