انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 360 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 360

غرض اسی قسم کے گوشت خور جانوروں کے وجود سے جو گوشت کے سوا کچھ اور نہیں کھاتےثابت ہوتا ہے کہ کسی جاندار کوذبح کرنا ظلم نہیں۔ورنہ اللہ تعالیٰ پر نعوزذبالله ظلم کا اطلاق ہو گا۔گوشت خوری کے مضمون پر بحث کرتے ہوئے یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ آریوں کے اعتقادکے موجب کل حیوانوں کی روحیں اصل میں ایک ہی قسم کی ہیں کیونکہ کبھی ایک روح سانپ بن جاتی ہے۔اور کبھی انسان اور کبھی شیر اور کبھی باز پس تناسخ کے مسئلہ سے معلوم ہو تا ہے کہ سب حیوانوں کی روحیں ایک ہی قسم کی ہیں خواہ وہ خوردبینی کیڑے کی روح ہو یا ہاتھی کی اور چونکہ رات کو آریہ مفردمانتے ہیں اس لئے یہ بھی ماننا پڑے گا کہ روح میں تغیر نہیں ہو تا۔جس حالت میں روح انسان میں تھی اسی حالت میں اب وہ سانپ یا بچھو کے قالب میں ہوگی پس باریک سے باریک کیڑوں کی ہلاکت ایسی ہی ظالمانہ کاروائی ہوگی جیسی کہ انسان یا ہاتھی کی ہلاکت۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ علاوہ ان جانوروں کے جو کہ پیدا ہی گوشت خور کئے گئے ہیں باقی سب جاندار بھی اپنی زندگی کے قیام کے لئے دوسرے جانداروں کی ہلاکت پر مجبور ہیں۔پیدائش سے موت تک انسان مختلف بیماریوں میں مبتلا رہتا ہے، بارہا اسے زخم لگتے ہیں اندرونی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں خوردبینی کیڑوں کی وجہ سے کئی بیماریاں اسے لاحق ہوتی ہیں اور ان بیماریوں کا علاج یہی ہو تا ہے کہ ایسی کرم کش دوائیاں استعمال کی جائیں کہ جن سے وہ کرم ہلاک ہوں اور انسان اس دکھ اور بیماری سے بچے اور کوئی مذہب اس فعل کو برا نہیں کہتا۔جب تک خوردبین کی ایجاد نہ ہوئی تھی اس وقت تک تو بہت سے کیڑے دریافت نہ ہوئےتھے لیکن خور دبین کی ایجاد نے ثابت کر دیا ہے کہ اس ہماری دنیا میں باریک سے باریک کیڑےموجود ہیں جن کی ہزاروں قسمیں ہیں۔اور جن کے ہلاک کرنے سے ہم بچ نہیں سکتے۔اور وہ ایسےچھوٹے قد کے ہیں کہ اعلیٰ سے اعلیٰ خوردبین کے بغیر ہم انہیں دیکھ بھی نہیں سکتے۔چنانچہ زولوجیکل اصطلاح کے رو سے ان کیڑوں کو پروٹوزوا کہتے ہیں۔بعض انتڑیوں کی بیماریوں اور زخموں کے علاوہ آتشک کی ایک قسم بھی کیڑوں سے ہی پیدا ہوتی ہے۔لیکن کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ان کیڑوں کا ہلاک کرنا گناہ ہے۔خور آر یہ ڈاکٹر اپنے ہاتھوں سے ہزار ہاکیڑوں کا روزانہ خون کرتے ہوں گے مگر انہیں کوئی ظالم نہیں کہتا حالا نکہ جیسی انسانی روح ہے دیسی ہی آر یہ اعتقاد کی رو سے ان کیڑوں کی روح ہے پھر کیا وجہ ہے کہ ایک جان بچانے کے لئے ہزاروں جانوں کو ہلاک کیا جائے۔بھابڑے اپنی طرف سے بڑی کوشش کرتے ہیں اور بعض منہ پر کپڑا باندھ لیتے ہیں تاکہ جَرم