انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 359 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 359

دنیامیں ایسے جانور بھی ہیں جو گوشت کے سوا کچھ نہیں کھاتےمیرے اس دعویٰ کی تائید میں کہ سب جانوروں کا گزار ہ دو سرے جانداروں پر ہے سب سے پہلے یہ بات ہے کہ پرمیشور نے ایسےجانور پیدا کئے ہیں جو سوائے گوشت کے اور کچھ کھاہی نہیں سکتے۔مثلا شیر، چیتا، باز،شکروغیره ان کی خوراک ہی گوشت ہے اور اس کے بغیر ان کی زندگی ہی قائم نہیں رہ سکتی۔اگر یہ فعل ناپسند تھاتوایسی مخلوق پیداہی کیوں کی۔اور ایک روح کو ایک گناہ کرنے پر مجبور کیوں کر دیا۔اگر شیر چیتے وغیرہ کواختیار دیا جاتا کہ خواہ وہ گوشت کھائیں اور خواہ گھاس وغیرہ تب تو یہ جواب ہو سکتا تھا کہ جب دونوں قدرتیں اس میں رکھی گئی ہیں تو اب یہ اس کا قصور ہے اور پاپ ہے کہ وہ گوشت کھاتا ہے۔لیکن یہاں تو اس میں کوئی اور طاقت اور قدرت رکھی ہی نہیں گئی جس سے معلوم ہوتاہے کہ پرمیشوراسی طرز زندگی کو اس کے لئے پسند کرتا ہے پھر اگر یہ ظلم ہے تو پرمیشور کی طرف سے ہے لیکن پر میشور کی طرف ظلم منسوب نہیں ہوتا اس لئے ماننا پڑے گا کہ یہ ظلم نہیں ہے۔ہاں اگر کوئی کے کہ وہ تو مجبور ہے۔انسان تو مجبور نہیں ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر یہ فلم تماتو پر میشور نے اسے مجبور کیوں کیا۔کیا پر میشور ظلم پر مجبور کرتا ہے۔قد ا تعالیٰ کا اسے مجبور کر ناہی ثابت کرتا ہے کہ ظلم نہیں ہے۔ایک آر یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ جون اس روح کو سزا کے طور پر ملی ہے ، لیکن اس کا جواب یہ ہےکہ گناہ کیا تھا اس شیر کی روح نے اور عذاب ہو رہا ہے دوسروں کو۔وہی ہرن کو کسی گائے کو کسی انسان کو کھا رہا ہے سزا تو دو سروں کو مل رہی ہے اس کا کیا نقصان ہوا؟ لیکن اعتراض تو یہ ہے کہ یہ کیسی سزا ہے جس کا نتیجہ اور گناہ پیدا ہونا ہے۔گورنمنٹ کسی کو قید اس لئے کرتی ہے کہ وہ چوری اور ڈاکے سے بچے ، یا اس لئے کرتی ہے کہ اور چوریاں کرے۔یہ تو ایسی سزا ہے جیسے ایک بج کسی چور کو یہ سزا دے کہ دس چوریاں اور کر - سزاتو مجرم کو گناہ سے بچانے کے لئے دی جاتی ہے یہاںایک گنہگار کو ایسی سزا دی گئی ہے کہ جس کی وجہ سے وہ اور گناہ کرے اور ابد الآباد کے لئے جو نوں کے چکر میں پھنسا ر ہے۔اور اگر کوئی کہے کہ شیر کی جو ان میں جو خون و ہ کرے گا اس کی سزا اس کو نہ ملے گی تو پھر الزام آئے گا کہ جب اس کے ہاتھوں سے خون کرانے کا کوئی نتیجہ نہ نکلے گا تو اس سے خون کرانا جانوروں پر بلاوجہ ظلم کرانا ہے تو اس ظلم کی ابتداء نعوذباللہ خدا کی طرف سے ہوگی نہ کہ انسان کی طرف سے۔۔