انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 358 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 358

چاہئے کہ اس بات پر زور دیں کہ جانور ذبح نہ کئے جائیں نہ کہ اسبات پر کہ کھائے نہ جائیں۔* دریا ئی شکار بغیر مارنے کے ملتے ہیں اور بہت سی قومیں مردہ مچھلی کھاتی ہیں۔اس اصول کے ماتحت ان کا کھانا جائز ہوگا۔قربانی ہی میں زندگی ہے؟اب جبکہ یہ ثابت ہو گیا کہ گوشت خوری میں بری چیز جانوروں کا مارنایا ذبح کرنا ہے۔ہم بتاتے ہیں کہ یہ سلسلہ خدا تعالیٰ یا پرمیشورکی طرف سے ہی لگا ہوا ہے اور کوئی جان زندہ ہی نہیں رہ سکتی جب تک کہ وہ اور جانوں کو اپنےلئے قربان نہ کرے اس لئے اس میں اگر کوئی ظلم ہے تو اس کا پیدا کننده خود پر میشور ہے۔اوپرمیشور کی طرف ظلم منسوب نہیں ہوتا۔بلکہ جو بات خداوند تعالیٰ کی طرف منسوب ہو جائے اورثابت ہو جائے تو اس کو ہم رحم ہی قرار دیتے ہیں۔ہاں اس کی وجہ معلوم نہ ہو سکے تو ہم یہ کہہ سکتےہیں کہ اس کی وجہ ہماری سمجھ میں نہیں آتی۔کسی چیز کی وجہ سمجھ میں نہ آنے سے کسی مذہب پراعتراض نہیں ہو سکتا۔مذہب کے لئے اتنا ضروری ہے کہ وہ یہ ثابت کردے کہ فلاں بات خدا کی طرف سے ہے اور جب وہ ایسا ثابت کر دے تو اب اس کی وجہ سے اسے جھوٹا نہیں کہا جاسکتا۔مثلاًاگر آریہ یہ ثابت کر دیں کہ مادہ غیر مخلوق ہے اور اس پر خدا تعالیٰ کی گواہی لا ئیں اور کسی شخص پرکھل جائے کہ واقعی خدا تعالیٰ نے ہی یہ کہا ہے تو اب وہ اس بات کی بناء پر کہ یہ بات عقل میں نہیں آئی آریہ مذہب کو جھوٹا نہیں کہہ سکتا۔کیونکہ سینکڑوں باتیں ہیں جن کی وجہ اور جن کا سبب لوگوں کو نہیں معلوم لیکن اس سے ان کے وجود میں کوئی شک نہیں ہو سکتا۔ایک مریض کے اگر پیٹ میں درد ہوتی ہو تو اس وجہ سے کہ اس درد کا باعث معلوم نہیں اس و رو کو غلط قرار نہیں دیا جاسکتا۔اسی طرح اگر یہ ثابت ہو جائے کہ زندگی کا قیام ہی اس بات پر ہے کہ ایک جنس دو سری جنس کو قتل کرے یا ہلا ک کرے تو اب اس کا نام ظلم نہیں ہو سکتا بلکہ یہ کہا جائے گا کہ اس کی وجہ ہماری سمجھ میں نہیں آتی (یہ اس کے لئے ہے جس کی سمجھ میں نہ آئے ورنہ ہماری سمجھ میں تو آتی ہے۔*لطیفہ اگر یہ اصول درست مان لیا جائے کہ چونکہ گوشت کھانے وا گوشت کھاتا ہے۔اسی لئے جانور نہ کئے جاتے ہیں اور یہ بھی اس گناه میں شریک ہے تو خود آریہ بھی ملزم ہوں گے۔گھاس پارٹی کے ممبر جو جوتیاں یابوٹ پہنتے ہیں یہ بھی آخر جانوروں کے چمڑہ سے بنتی ہیں اور ان کا جوتی یا بوٹ خریدنا اس فعل میں شریک ہوتا ہے اگر یہ جوتیاں نہ پہنیں تو ضرور چمڑہ کی خریداری کم ہو جائے اسی طرح ان کے گھروں میں ہزاروں چیزیں پروں کی استعمال ہوتی ہیں اور ان کو معلوم ہے کہ پَر لینے کے لئے ہر سال لاکھوں جانور مارے جاتے ہیں چنانچہ بعض جانوراسی وجہ سے قریبا ً مفقود ہونے کو ہیں جن کے شکار کی ممانعت کے لئے کئی ایکٹ پاس کئے گئے ہیں تو جب کروڑوں ہندو ان پروں کی اشیاء کوخریدتے ہیں تو تجارت کی ترقی کی وجہ سے جانور بھی زیادہ مارے جاتے ہیں اس لئے یہ بھی غیرمذاہب کی طرح اس ظلم میں شریک ہیں اور جیسے گوشت کھانے والا مجرم ہے ویسے ہی جوتی یا بوٹ پہننے والا اور پروں کی اشیاء استعمال کرنے والا مجرم ہے۔منہ