انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 355

انوار العلوم جلد 1 ۳۵۵ گوشت خوری آجکل کے آریہ تو گوشت خوری پر اس قدر شور و شر کرتے ہیں اور ایک ست جگ کا حال گائے کے بدلہ اگر سو انسان بھی مارنا پڑے تو دریغ نہیں کرتے۔ چنانچہ سکھوں کے زمانہ میں اس قسم کے بہت سے واقعات ہو چکے ہیں کہ ایک گائے کے بدلہ میں بیسیوں انسانوں کا خون کیا گیا۔ اور اب بھی ہندو ریاستوں میں گائے کا مار نا قتل انسان کے برابر رکھا گیا ہے۔ اور پچھلے دنوں کلکتہ میں گائے کی قربانی پر جو فساد ہوئے ہیں اور انسانی خون تک نوبت پہنچی ہے ۔ یہ سب باتیں بتاتی ہیں کہ اس وقت ہندؤوں میں حیوانوں کے ذبح کرنے اور خصوصیت سے گائے کی قربانی کرنے سے کیا جوش پیدا ہو جاتا ہے اور کسی طرح وہ ایسے موقعہ پر انسانی خون سے بھی پر ہیز نہیں کرتے۔ لیکن اگر ان کے آباء کا حال پڑھیں اور اس زمانہ پر نظر کریں جب ہنود اپنے پورے زور میں تھے اور ہندوستان انہیں کے قبضہ میں تھا۔ اور جس وقت کے گیت گاتے ہوئے آج بھی ان کی زبانیں خشک ہوتی ہیں۔ اور جس زمانہ کو یاد کر کر کے ان کے مردہ دلوں میں فرحت کی لہر پیدا ہو جاتی ہے۔ تو واقعہ کچھ اور ہی معلوم ہوتا ہے۔ اور ہم نہ صرف عام جانوروں کے گوشت کو ہی لکڑیوں کے انباروں پر بھتا ہوا دیکھتے ہیں۔ بلکہ برہمنوں کو گائے کے گوشت کے کباب کھاتے ہوئے پاتے ہیں۔ اور یہ نظارہ ان کے دلوں میں ایک خاص دلولہ پیدا کرتا ہے ۔ چنانچہ وہ ان دعاؤں میں جو وہ اپنے معبودوں کے سامنے کرتے ہیں۔ اس کو پیش کر کے اپنے لئے برکتیں اور رحمتیں طلب کرتے ہیں۔ وید کی کئی شرتیوں سے دوسرے جانوروں کی قربانی تو الگ رہی گائے تک کی قربانی ثابت ہوتی ہے۔ چنانچہ رگوید میں ہے۔ اے اندر جو کہ تیز رفتار اور طاقت ور اور سب کا سوامی ہے۔ اس در ترا پر اپنا بحر چلا۔ اور اس کو جدا جدا کر جیسے قصائی گائے کو کاٹتا ہے تاکہ مینہ برسے اور پانی زمین سے بے"۔ چوتھا ادھیائے انواک دس سوکت ۴ منتر ۱۲۔ اس سے نہ صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ ویدوں کے زمانہ میں گائے ذبح کی جاتی تھی بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عام طور سے ذبح کی جاتی تھی۔ کیونکہ قصائی کا پتہ اس جگہ ہوتا ہے جہاں کثرت سے جانور ذبح کئے جائیں ورنہ کبھی کبھار ذبح کرنے کے لئے قصائی نہیں ہوتے لوگ خود کر۔ خود کر لیتے ہیں ۔ قصائی اسی جگہ ہوں گے جہاں ذبح کی اجرت سے ان کا گزارہ چل سکتا ہو۔ ڈاکٹر راجندر لعل صاحب متر جو سنسکرت کے ایک بڑے عالم بنگالی گزرے ہیں لکھتے ہیں ۔ جو حیوان ذبح کئے جاتے تھے ان کو قدیم آریہ کھاتے بھی تھے ۔ چنانچہ وہ بتلاتے ہیں سو دالیا نہ سوتر میں