انوارالعلوم (جلد 1) — Page 348
انوار العلوم جلد 1 ۳۴۸ پاری و عظ مدار نجات ہے وہ انسانی عقل کی پہنچ کے اندر ہونی چاہئیں۔ کیونکہ اگر بعض ایسی باتیں مدار نجات قرار دے دی جائیں جو عقل کے خلاف ہوں۔ تو انسان کے لئے نجات کا دروازہ بالکل بند ہو جائے گا۔ مثلاًا اللہ تعالیٰ کی ہستی پر ایمان لانا نجات کیلئے ضروری ہے تو ہستی باری کا ثبوت ضرور ایسا ہونا چاہئے جو عقل کے خلاف نہ ہو اور ہم دیکھتے ہیں کہ واقعی انسانی عقل مختلف ذرائع سے اس بات پر مجبور ہے کہ ہستی باری کو مانے۔ اور خلاف اس کے اللہ تعالیٰ کے وجود کی کیفیت انسان کے دماغ میں نہیں آسکتی۔ اس لئے اس کو الہی مذہب چھیڑتے تک نہیں ۔ ہاں جو حصہ صفات الہیہ کا تھا۔ چونکہ وہ سمجھ میں آسکتا تھا اس لئے وہ بیان بھی کر دیا گیا پس چونکہ تثلیث کا مسئلہ آ۔ آپ کے مذہب کی رو سے نجات کا جزو اعظم ہے اس لئے یہ ضروری ہے کہ یہ ایسے پیرایہ میں بیان کیا جاتا جس کو عقل انسانی سمجھ سکتی۔ پادری صاحب - بیشک عقل یہی کہتی ہے لیکن تثلیث کے ماننے سے پہلے انجیل کا ماننا ضروری ہے۔ طالب حق - انجیل کو انسان تب مانے جب اصول مسیحیت ثابت ہو جائیں۔ ان مسائل کے حل ہونے سے پہلے انسان انجیل کو کب مان سکتا ہے۔ پادری صاحب۔ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ۔ انجیل کے ماننے سے پہلے ان مسائل کا سمجھنا مشکل ہے ۔ طالب حق ۔ بہت اچھا ۔ آپ اس مسئلہ کو تو عقلی طور پر حل نہیں کر سکتے۔ یہی فرمائیے۔ موجودہ زمانے میں اس تمام دنیا کا انتظام کس کے سپرد ہے ۔ خدا باپ کے یا خدا بیٹے کے ۔ پادری صاحب - انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ مخلوقات کا انتظام مسیح یعنی بیٹے کے سپرد ہے۔ طالب حق ۔ تو کیا خدا باپ دنیا کو کلمہ کی معرفت پیدا کرنے کے بعد خالی بیٹھا ہے۔ پادری صاحب۔ نہیں صفات الہیہ کا تعطل تو جائز نہیں۔ تمام جہان کا انتظام وہی کرتا ہے۔ طالب حق ۔ پادری صاحب - ابھی تو آپ نے فرمایا تھا کہ بیٹا انتظام کرتا ہے۔ اب اس بات کے تین پہلو ہو سکتے ہیں۔ یا تو یہ کہ ایک معطل ہے اور ایک کام میں لگا ہوا ہے گا ہوا ہے اس صورت میں ایک خدا کی صفات پر تعطل ثابت آئے گا۔ گا جو جائز نہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ دونوں بانٹ ما بانٹ کر کام تے ہیں ۔ اس صورت میں یہ ماننا پڑے گا ا یہ ماننا پڑے گا کہ ایک خدا اسمارا کام نہیں کر سکتا۔ بلکہ دونوں خدا۔ اپنے کرتے اپنے حصہ کا کام نپٹاتے ہیں۔ اس صورت میں خدا تعالیٰ پر نعوذ باللہ محدودیت کا الزام ثابت ہو تا