انوارالعلوم (جلد 1) — Page 347
کو پکڑ لیا۔لیکن خود میرے ہاتھ کے پکڑنے میں تو کوئی علم نہیں۔اگر آپ مسیح کو قدرت بھی قراردیں اور کلام کار و سرانام قدرت رکھیں۔تب بھی تو یہ کوئی علیحدہ ذات قرار نہیں پا سکتا۔ورنہ ہرایک چیز میں کچھ نہ کچھ قدرت ضرور ہوتی ہے۔تو اس طرح ہر ایک ذات کو دو ذاتیں قرار دینا پڑےگا اور دوسرے اس صورت میں یہ بھی لازم آتا ہے کہ مسیح علم اور ارادے سے خالی تھا کیونکہ جیساکہ میں ثابت کر آیا ہوں کہ قدرت صفت علم و ارادہ کے بكلی ماتحت ہوتی ہے اس صورت میں مسیح خدا کے علم و ارادہ کے بكلی ماتحت ہؤا۔اور وہ چیز جو علیم وقدیر ہستی کے ہاتھ میں ایک ہتھیار کے طورپر ہو۔اور خود اس کا کوئی دخل نہ ہو وہ خدا نہیں کہلا سکتی۔خدا تو وہی ہے جو علیم و قدیر ہو۔اور تمام نقائص سے مبرّا اور خوبیوں سے متصف ہو۔پادری صاحب۔ہم تو مسیح کو علم سے خالی نہیں سمجھتے یہ ضرور علیم ہے۔طالب حق۔یہ بے شک درست ہے کہ آپ مسیح کو ایک علیم ہستی مانتے ہیں اور گو مسیح انجیل میں اپنے علم کا منکر ہے مگر اس وقت مجھے اس سے کوئی تعلق نہیں۔میں آپ ہی کی بات کو مانتاہوں۔اور چونکہ مسیح خدا ہے اس لئے ہونا بھی ایسا ہی چاہیے لیکن یہ اعتقاد کی بات ہے اور جیسا کہ پہلے بیان کر آیا ہوں آپکی خدمت میں ایسے انسان کی حیثیت سے حاضر ہؤا ہوں جس نے عام دنیا کےاعتقادوں کو دیکھ کر فیصلہ کرنا ہے کہ کونسا اعتقاد سچا ہے اور چونکہ ایسا متلاشی کسی کتاب کا قائل نہیں ہو تا ضروری ہے کہ اس کے سامنے عقلی دلائل پیش کئے جائیں۔اور جیسا کہ میں اوپر بیان کرآیا ہوں مسیح کو اگر کلمہ مان لیا جاوے تو اول تو وہ ایک مفت اور پر علم سے خالی ثا بت ہو تا ہے اور چونکہ میں عقلی دلیل سے ہی فائدہ اٹھا سکتا ہوں اس لئے ضرور ہے کہ یا تو سرے سے مسیح کے کلمہ ہونے کا ہی انکار کر دوں یا آپ کے قول کو مانتے ہوئے اسے کلمہ تو قرار دیں لیکن علم سے خالی۔پادری صاحب۔بےشک عقل تو یہی کہتی ہے لیکن انجیل اس بات کو نہیں مانتی۔طالب حق۔تو کیا عقل کی روسے تثلیث کاماننا ناممکن ہے۔پادری صاحب۔اس میں کیا شک ہے کہ عقل انسانی ہستی باری کی گنہ تک نہیں پہنچ سکتی۔طالب حق۔جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے عقل ہی ایک سمجھ کا زریعہ بنایا ہے تو بغیر عقل کے ہم کسی بات کو مان کیونکر سکتے ہیں۔بے شک بعض باتیں عقل سے بالا ہو تی ہیں لیکن کوئی الہٰی مذہب اپنے پیرؤوں سے خلاف عقل با تیں نہیں منواتا۔میں اس بات میں آپ سے متفق ہوں کہ ذات الہٰی کی کنہ کو سمجھنا انسانی عقل کا کام نہیں۔کیو نکہ و ہ محدود ہے مگر یہ ضروری ہے کہ جن باتوں کو ماننا