انوارالعلوم (جلد 1) — Page 346
ہیں۔اس بات کو تو آپ بھی مانتے ہیں کہ خدامیں اور انسان میں مشابہت نہیں ہے کلام صفت نہیں كلام قدرت ہے۔طالب حق-پادری صاحب کلام وہ ذ ر یعہ ہے کہ جس سے ہم اپنامافی الضمیر دوسرے پر ظاہرکرتے ہیں یہ سچ ہے کہ خدا تعالیٰ میں اور ہم میں بہت فرق ہے وہ خالق ہے اور ہم مخلوق ہیں لیکن جیسے انسان کے دیکھنے کی طاقت ،سننے کی طاقت اور اس کے علم کو آپ لوگ صفات انسانی قرار دیتے ہیں۔اسی طرح خدا تعالیٰ کی بھی ان طاقتوں کو صفات ہی قرار دیتے ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ خدا کی صفت علم کو یاصفت سمع کو تو آپ صفت قرار دیں اور صفت کلام کو اس بناء پر کہ خدا اور انسان میں بہت فرق ہے دوسری ذات قرار دیں۔آپ جانتے ہیں کہ ہم زبان سے زید کو حکم دیتے ہیں کہ تو آ- اور وہ آجاتا ہے ہمارے مافی الضمیر کے اظہار کا یہی طریقہ ہے لیکن ہم اپنے اس کلام کو اپنے جیسا انسان قرار نہیں دیتے۔نہ یہ کہتے ہیں کہ ہم دو ہیں۔ایک ہم اور ایک ہمارا کلام۔اور اگر ایسا ہو تو کلام کو ایک ذات قرار دینا اور سمع و بصر کو نہ قرار دینا ترجیح بلا مرجح ہو گا۔پھر علاوہ ازیں آپ صرف اس کلام کوجس کے واسطے دنیا پیدا کی گئی۔کیوں خدا کہتے ہیں۔کیوں توریت اور انجیل اور دیگرصحف انبیاءؑ کو خدا قرار نہیں دیتے۔اگر آپ خدا کی صفات سمع و بصرو علم کوخداقرار نہیں دیتے۔تو آپ کم از کم انجیل یوحنا کے ماتحت کہ’’ ابتداء میں کلام تھا۔اور کلام خدا کے ساتھ تھا اور کلام خدا تھا،‘‘ نجیل و توریت کو اور دیگر صحف انبیاءؑ کو خدا قرار دیں۔پادری صاحب۔مسکرا کر۔نہیں نہیں ہم انجیل توریت کو خدا نہیں مانتے ہمارے مذہب میں ایسا جائز نہیں۔اور ہم تو کلام کو صفت قرار نہیں دیتے۔بلکہ ایک ذات قرار دیتے ہیں۔طالب حق - تو آپ کلام کو کیا سمجھتے ہیں۔پادری صاحب - قدرت طالب حق۔جناب نے فرمایا کہ ہم کلام کو قدرت سمجھتے ہیں۔لیکن آپ کو یاد رکھنا چاہیئےکہ قدرت بھی کوئی علیحده ذات ہیں۔مثلا میرے ہاتھ میں پکڑنے کی قدرت ہے۔یہ قدرت میرےارادے کے ماتحت ہے۔اس میں خود کوئی علم نہیں۔جب ہاتھ کو حکم دیتا ہوں کہ تو پکڑ تو وہ پکڑ لیتا ہے۔اسی ہاتھ سے میں مقید سے مفید اور مضر سے مضر چیز کو پڑ سکتا ہوں۔اور میرے علم اور ارادےکے ماتحت میرے ہاتھ کو جس چیز کو میں حکم دوں پکڑ نا ہو گا۔مثال کے طور پر یہ چیز میرے سامنے پڑی ہو گئی ہے پس اپنے ہاتھ کو حکم دیتا ہوں کہ تو اس کو پکڑ چنانچہ اس نے میرے ارادے کے ماتحت اس