انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 327 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 327

لیکن کیا ان لوگوں نے ذرہ بھر بھی توجہ کی۔ایک آریہ اخبار ذرہ بھر بھی ان کے پولیٹیکل حقوق کے برخلاف لکھتا ہے تو ان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے آنکھوں سے شعلے نکلنے لگتے ہیں اور ناسزا الفاظ بے اختیار ان کے منہ سے نکل جاتے ہیں اور راس کماری سے لے کر ہمالیہ کی چوٹیوں اورکلکتہ سے لے کر پشاور تک تار برقی کی طرح ایک جوش پھیل جاتا ہے اور چاروں طرف غور و فکرشروع ہو جاتا ہے لیکن خدا کے مامور کی آواز ان کے کانوں میں تیئس سال تک پڑتی رہی اور دنیا کی بے توجہی پر غضب الہٰی نازل ہوا۔لیکن ان کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی یہ مست پڑے رہے اور غفلت کے لحافوں کو انہوں نے اپنے سر سے نہ اتارا۔انہوں نے آنکھ اٹھا کر نہ دیکھا کہ یہ ہےکون اور پرواہ تک نہ کی خدا کی پکار کو سننے سے انکار کر دیا اور حقارت سے منہ پھیر لیا یہ ان کا ایمان ہے اور یہ وہ تڑپ ہے جو دین کے لئے ان کے دلوں میں پائی جاتی ہے اور باوجود اس حالت کے یہ لوگ ہمارے سامنے آتے ہیں اور ہمیں صلح کے لئے بلاتے ہیں اور پھر زیادہ تعجب کی بات تو یہ ہےکہ یہ تحریک جس گروہ سے اٹھی ہے اور جو گروہ کہ ہم کو اپنے پیچھے نمازیں پڑ ھوانا چاہتا ہے وہ خودنماز نہیں پڑھتا۔جو لوگ نمازیں پڑھتے ہیں وہ تو ہم کو کافر سمجھتے ہیں مگر یہ لوگ جو ٹھٹھےاور ہنسی میں اپنا دن گزارتے ہیں اور اسلام کے پاک احکام پر تمسخر کرتے ہیں جن پر یورپ کا رنگ تہ بہ تہ چڑھا ہؤا ہے ہمیں بلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں بلاؤ اور ہمارے پیچھے نماز پڑھو۔ہم کس کے پیچھے نماز پڑھیں کیا ان لوگوں کے پیچھے جن کو اگر مسلمان بھی سمجھ لیا جائے تو شاید نماز پڑھنی ناجائز ہو؟ ہاں ہم کن کے پیچھے نماز پڑھیں کیا ان لوگوں کے پیچھے جن کے دلوں میں اسلام محض ایک قومیت ہے اور رسول اللہ ﷺ کی عزت صرف اپنے پولیٹیکل حقوق کے محفوظ رکھنے کے لئے کی جاتی ہے بےشک اس تحریک کا اس گروہ سے اٹھنا اس بات پر شاہد ہے کہ یہ تحریک ر حمنٰ کی طرف سے نہیں۔غیراحمدیوں کے پیچھے نماز نہ پڑھنے کا فتویاب میں حضرت صاحب کا وہ قول نقل کرتا ہوں جس میں کہ غیر احمدیوں کے پیچھے نمازپڑھنے سے روکا گیا ہے آپؑ فرماتے ہیں کہ ’پس یاد رکھو کہ جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفّر اور ،مکذّب یا متردّد کے پیچھے نماز پر بلکہ چاہیے کہ تمہار و ہی امام ہو جو تم میں سے ہواسی کی طرف حدیث بخاری کے ایک پہلو میں اشارہ ہے کہ ان منکم منکم یعنی جب میں نازل ہو گا توتمہیں دوسرے فرقوں کو جو دعوی ٰاسلام کرتے ہیں بھی ترک کرنا پڑے گا اور تمہارا امام تم میں سے