انوارالعلوم (جلد 1) — Page 321
نہیں مانتا۔اور اس میں شک نہیں کہ جس پر خدا تعالیٰ کے نزدیک اول تم کفریا دو سری قسم کفر کی نسبت اتمام حجت ہو چکا ہے وہ قیامت کے دن مؤاخذہ کے لائق ہو گا\"۔مکفّر اور متردّد کی تشریح ان عبارتوں سے یہ نتائج نکلتے ہیں اول تو یہ کہ مکفّر اور خاموش ایک ہی گروہ میں سے ہے کیونکہ جو مانتا ہے اسے مؤمن کہتے ہیں اور کافر مؤمن کے مقابل میں ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو نہیں مانتا خواہ وہ مکفر ہو یا خاموش ہو کافر ہے اور یہ دونوں گروہ ایک ہی قسم کے ہیں دوسری یہ کہ جو آپ کو نہیں مانتا وہ ضرور آپؑ کو مفتری قرار دیتا ہے تیسری یہ کہ جو آپ ؑکو نہیں مانتا اس کا ایمان اور حقیقت خدا تعالیٰ پر بھی نہیں اور نہ رسول اللہ ﷺ پر ہی ہے۔چوتھے یہ کہ چونکہ وہ شخص آیات اللہ کا منکر ہے اس لئے مؤمن نہیں ہو سکتا۔پانچویں یہ کہ چونکہ شریعت کی بنیاد ظاہر پر ہے اسے ہم مؤمن نہیں کہہ سکتے اور چھٹے یہ کہ وہ مؤاخذہ سے بری نہیں۔ساتویں یہ کہ کفر دو قسم کا ہے ایک اللہ اور رسول کا کفر اور ایک دیگر آیات کانفرنس میں حضرت صاحب کا کفر بھی شامل ہے۔انھومیں ہے کہ اصل میں یہ سب کفر ایک ہی ہے جس نے آپ ؑکا کفر کیا اس نے خدا و رسول کا کفر بھی ساتھ ہی کیا۔نویں یہ کہ جس پر ان دونوں کفروں میں سے کوئی ایسی قسم کفرکی ثا بت ہو جائے وہ قیامت کے دن زیرِ مؤاخذہ ہو گا۔مکفّرین قابل مؤاخذہ ہیںاس بات کے ثبوت ہیں کہ حضرت صاحب نے کل ان لوگوں کوجن پر اتمام حجت ہو چکا ہے اور دعوت پہنچ چکی ہے شرعا ًقابل مؤاخذه ٹھہرایا ہے یہ عبارت کافی ہے۔\"میں یہ کہتا ہوں کہ چونکہ میں مسیح موعود ہوں اور خدا تعالیٰ نے عام طور پر میرے لئے آسمان سے نشان ظاہر کئے ہیں پس جس شخص پر میرے مسیح موعود ہونے کے بارے میں خدا کے نزدیک اتمام حجت ہو چکا ہے اور میرے دعویٰ پر وہ اطلاع پا چکا ہے قابل مؤاخذہ ہو گا۔کیونکہ خدا کےفرستادوں سے دانستہ منہ پھیرنا ایسا امر نہیں ہے کہ اس پر کوئی گرفت نہ ہو اس گناہ کا داردخواہ میں نہیں ہوں بلکہ ایک ہی ہے جس کی تائید کے لئے میں بھیجا گیا ہوں یعنی حضرت ام مصطفی ﷺ جوشخص مجھے نہیں مانتا وہ میرا نہیں بلکہ اس کا نا فرمان ہے جس نے میرے آنے کی پیشگوئی کی\"۔حقيقۃالوحی صفحہ ۱۷۸) پھر اربعین نمبر ۳ صلہ ۳۲ میں فرمایا کہ \"ایسا ہی آیت واتخذوا مقام ابرھیم مصلی (البقرہ:۱۲۶) اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ جب امت محمدیہ میں بہت فرقے ہو جائیں گے۔تب ہر زمانہ