انوارالعلوم (جلد 1) — Page 319
انوار العلوم جلد 1 ۳۱۹ مسلمان رہی ہے جو سب ماموروں کو مانے میں تبلیغ ہو چکی ہے بلکہ بعض دیگر ممالک میں بھی ۔ تیسری یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جن کو تبلیغ نہیں ہوئی۔ اس کا حساب خدا کے ساتھ ہے ہم نہیں جانتے کہ تبلیغ ان کو ہو چکی ہے یا نہیں کیونکہ کسی کے دلی خیالات پر آگاہ نہیں اس لئے چونکہ شریعت کی بناء ظاہر پر ہے ہم ان کو کافر کہیں گے گو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ وہ سزا کے لائق ہیں۔ یا بموجب حدیث صحیح پھر موقعہ دیئے جانے کے لائق ہیں۔ ہیں : جو حضرت صاحب کو نہیں مانتا اور کافر بھی نہیں کہتارہ بھی کافر ہے۔ حضرت صاحب فرماتے 31 یہ عجیب بات ہے کہ آپ کا فر کہنے والے اور نہ ماننے والا نے والے کو دو قسم کے انسان ٹھراتے ہیں حالانکہ خدا کے نزدیک ایک ہی قسم کے ہیں کیونکہ جو شخص مجھے نہیں مانتادہ اسی وجہ سے نہیں مانتا کہ وہ مجھے مفتری قرار دیتا ہے مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا پر افتراء کرنے والا سب کافروں سے بڑھ کر کافر ہے " (حقیقۃ الوحی صفحہ (۱۶۳) حاش (1) حاشیہ پر لکھتے ہیں ” سوجو شخص مجھے نہیں مانتادہ مجھے مفتری قرار دے کر مجھے کافر ٹھہراتا ہے اس لئے میری تکفیر کی وجہ سے آپ کا فر بنتا ہے ۔ “ پھر فرماتے ہیں کہ علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتارہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا کیونکہ میری نسبت خدا اور رسول کی پیشگوئی موجود ہے " پھر فرماتے ہیں اب جو شخص خدا اور رسول کے بیان کو نہیں مانتا اور et " قرآن کی تکذیب کرتا ہے اور عمد اخد اتعالیٰ کے نشانوں کو رد کرتا ہے اور مجھ کو باوجود صد ہا نشانوں کے مفتری ٹھراتا ہے وہ مؤمن کیوں کر ہو سکتا ہے " (حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۶۴) اب جبکہ میں حضرت صاحب کی ایک ایسی عبارت نقل کر چکا متردّد کے لئے کفر کا فتویٰ ہوں جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کافر کہنے والے اور نہ ماننے والے ایک ہی قسم کے لوگ ہیں اور دونوں میں کوئی فرق نہیں اور جس طرح کافر کہنے والا ایک مسلمان کو کافر کہہ کر کافر بنتا ہے اسی طرح ایک نبی کو نہ ماننے والا اسے نہ ماننے کی وجہ سے کافر ٹھہرتا ہے میں ایک اور حوالہ درج کرتا ہوں جس میں آپ نے اس شخص کو بھی جو آپ کو سچا جانتا ہے مگر مزید اطمینان کے لئے ابھی بیعت میں توقف کرتا ہے کافر ٹھرایا ہے چنانچہ آپ ضمیمہ براہین احمد یہ صفحہ ۱۸۷ میں اس سوال کے جواب میں کہ "چونکہ حضرت کی اب تک کوئی ایسی تأثیر روشن طور پر ظہور میں نہیں آئی اور دو تین لاکھ آدمی کا حضرت کے سلسلہ میں داخل ہونا گو یا د ریا میں سے ایک قطرہ ہے پس اگر تأثیر بین کے ظہور تک کوئی بغیر انکار کے داخل سلسلہ ہونے میں توقف اور