انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 310

انوار العلوم جلدا ۳۱۰ مسلمان وہی ہے جو سب ماموروں کو مانے کانشان جس میں مشرکانہ خیالات کی وجہ سے بے رونقی اور زنگ پیدا ہو گیا تھا یعنی کلمہ شہادت وہ پھر اپنی اصلی رونق سے دنیا پر ظاہر ہو گا۔ اور وہ دن دور نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فرمودہ کے مطابق دنیا دیکھ لے گی کہ دنیا میں ایک نذیر آیا ۔ مگر دنیا نے اسے قبول نہ کیا۔ لیکن خدا اسے قبول کرے گا۔ اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی کو دنیا پر ظاہر کرے گا جب حق کھل گیا۔ اور بات ظاہر ہو گئی تو شیطان نے وہی حربہ استعمال کرنا چاہا جس سے کہ حضرت مسیح کی جماعت کو دق کیا تھا۔ اور ان کی بڑھتی ہوئی طاقت کو توڑ دیا تھا یعنی اس نے مولویوں اور گدی نشینوں سے کام بگڑتا ہوا دیکھ کر امراء اور تعلیم یافتہ گروہ کو چنا اور چونکہ یہ لوگ اکثر یا تو لاند ہب ہوتے ہیں۔ یا دین کی حقیقت سے غالبا نا واقف اور عملی حصہ میں تو فیصدی بہت ہی کم نکلیں گے جو جماعت نماز بلکہ صلوۃ و صوم و زکوة کے پابند ہوں۔ اس لئے ان کے ہاتھوں میں وہی حربہ دیا جو حواریوں کے مقابلہ میں غیر قوموں کو دیا تھا۔ یعنی وہ صلح کے لئے بڑھے اور انہوں نے اپنے چہرے ایسے بنائے گویا اسلام کے غم نے ان کی کمر توڑ دی ہے اور مختلف فرقوں کا تفرقہ دیکھ کر ان کے دل پر اگندہ اور آنکھیں پرنم ہیں اور یہ ایسا بوجی ہے کہ جس سے ان کی پشت خم ہو رہی ہے اور مسلمانوں کی تباہی کو دیکھ کر وہ بے موت مر رہے ہیں۔ اور ایسی حالت بنا کر وہ ہمارے پاس آئے اور اپنی خطاؤں کا اقرار کیا اور کہا کہ ہماری غلطی تھی کہ ہم آپ لوگوں سے الگ ہوئے اور بزرگوں کا کام ہمیشہ خطاؤں سے چشم پوشی کرنا ہو تا ہے پس آپ ہماری غفلت سے نظر اندازی کریں اور ہم کو اپنا خیر خواہ تصور کریں اور آج سے ہم میں اور آپ میں یگانگت ہو جائے اور ہم ایک ہو کر اسلام کو دشمنوں سے بچائیں۔ اور اس کے بعد ایک عاشق مفتون کی طرح انہوں نے ہم سے گلہ شروع کیا اور کہا کہ جب ہم میں اور آپ میں کوئی اصولی فرق نہیں اور ہمارا ایک ہی خدا ا اور ایک ہی رسول ہے تو آپ ہم سے الگ کیوں ہوئے اور ہمارے پیچھے نمازیں پڑھنی کیوں چھوڑ دیں اور کیا ضرور تھا کہ اگر ہمارے جہاں سے کوئی خطا ہوئی تھی تو آپ اس کا نوٹس لیتے اور اس پر بگڑ بیٹھتے ۔ آپ کو تو بڑے رحم اور و اور وسعتِ نظر سے کام لینا چاہئے تھا اور صرف اس بات پر کہ ہم مرزا صاحب کو مأمور من اللہ نہیں مانتے کا فر قرار دینا آپ کی شان سے بہت بعید تھا۔ اور ہم تو مرزا صاحب کو ایک بڑا راست باز انسان اور اسلام کا سچا خادم تصور کرتے ہیں اور صرف آپ سے اس اقدر قدرا اختلاف ہے کہ ہم آپ کے بعض ان دعاوی کو نہیں نہیں مانتے ما کہ جن میں وہ اپنے آپ کو خدا کی طرف سے رسول اور مسیح موعود اور مہدی مسعود ہونے کا ذکر کرتے ہیں اور مختلف موقعوں پر مختلف لوگوں کے سامنے ان باتوں پر اتنا زور دیا کہ قریب تھا کہ بہت سے