انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 309

ماریں کھاتے تھے۔گالیاں سنتے تھے۔قتل بے گناہ ہوتے تھے۔عدالتوں میں گھسیٹے جاتے تھے۔مگر یہ سب کچھ کس لئے ہوتا۔صرف اس لئے کہ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ بڑا قادر ہے اور رسول اللهﷺکی پیشگوئی کے مطابق اس نے اس امت میں سے ایک مامور بھیج دیا ہے۔جو دنیا کو گمراہی سے بچائےاور اس کا نام اس نے مسیح موعوداور مہدی مسعود رکھا ہے۔گویا ہم پر فرد جرم اس لئے لگائی گئی کہ ہم نے خدا کے علم کو کیوں مانا اور کیوں نہ اسے کہہ دیا کہ ہم کب تک تیرے احکام کو مانتے چلےجائیں آج تک بہت سے انبیاءؑ کو تو مان لیا اب بس کرو اور ہم کو اس اطاعت سے معاف کرو۔ہاںہم اس لئے واجب القتل قرار دیئے گئے کہ ہم حقیقی بادشاہ کے فرماں بردار ہوئے اور ان باغیوں کے ساتھ نہیں ملے جنہوں نے اس کے مامور کا انکار کیا۔اور اگر واقعی یہ کوئی ایسا جرم تھا جس کی سزاہم کو یہ ملنی چاہئے تھی۔تو خدا کی قسم ہم اس جرم کے مرتکب ضرور ہوئے ہیں۔اور جس طرح ہمارے حضرت ؑنے رسول اللہ ﷺکی نسبت فرمایا ہے بعد از خدابعشق محمد مخمرم -: گر کفرایں یو د بخداسخت کا فرم ہم بھی کہتے ہیں کہ اگر خدا کے ماموروں اور رسولوں کا اقرار اور ان کی اطاعت کفر ہے تو خدا کی قسم ہم اس قسم کے کافر ضرور ہیں۔اور اگر اسی کا نام کفر رکھا جا تا ہے تو اس کفر کو ہم ذریعہ نجات یقین کرتے ہیں۔جماعت کی ترقی اور دشمن کا فریباس کے بعد وہ زمانہ آیا کہ خدا تعالیٰ نے ہم کوفتوحات دیں اور ہماری جماعت کے روز بروز ترقی ہونی شروع ہوئی اور جوں جوں مخالفین سلسله نے شور مچایا یہ سلسلہ اور بھی بڑھا اور بیسیوں میں جو مخالفین سی کی کتب کو پڑھ کر اس سلسلہ میں داخل ہوئے اور جس قدر عذاب ہم کو دیئے گئے ان سے بجائے ہماری ذلت و کمزوری کے ترقی اور عزت ہی ہوتی گئی۔جس قدر ہمارے مخالفین نےہمیں چاه گمنامی میں پھینکنا چاہا۔خدا نے اسی قدر ہم کو شہرت کے ٹیلہ پر بلند کھڑا کیا۔اور ہماری جماعت کا رعب مخالفین کے دلوں میں بیٹھ گیا اور خدا کی دی ہوئی نصرت وفتح کو انہوں نے مشاہدہ کیا۔اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ اسلام کے دشمنوں کی فوجیں ہمارے آگے سے فرار ہو گئیں۔اور انہوں نے سن لیا کہ دجال اس مسیح کے مقابل میں ٹھہر نہیں سکا۔اور ملا ئکہ کی ہیبت ناک آواز یں ان کے کانوں میں پہنچیں، تب ان کو یقین ہو گیا کہ اب یہ سلسلہ پڑھے گا اور ہر ایک سر سبزوادی اور ویران جنگل اور اونچے پہاڑ اور وسیع سمند ر پر ان کی آواز بلند ہو گی اور وہ اسلام