انوارالعلوم (جلد 1) — Page 308
طرح اب بھی پھرتےرہے۔پس ضرور تھا کہ جس طرح آپ کی وفات کے بعد آپ کی جماعت پرابتلاء آئے۔اسی طرح حضرت صاحب کی وفات کے بعد بھی جماعت پر اسی طرح ابتلاء آتے۔چنانچہ ایک مدت سے بلکہ شاید میں غلطی پر نہ ہوں گا اگر کہوں کہ حضرت صاحب کی زندگی کے زمانہ سےمجھے اس بات کا خیال تھا اور خوف تھا اور میں دیکھتا ہوں کہ ایک مدت سے آثار ظاہر ہو رہے ہیں لیکن چونکہ حضرت مسیح موعود ؑصرف مثیل مسیحؑ ہی نہ تھے بلکہ مہدی مسعود بھی تھے اس لئے امیدبلکہ یقین ہے کہ انشاء اللہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت ان ابتلاوں کے زمانہ سے صاف اوربے عیب نکل جائے گی۔چنانچہ اگر میں بھولتا نہیں تو میں نے خود حضرت خلیفہ المسیح کے منہ سے یہ سنا ہے کہ ایک دفعہ آپ نے حضرت صاحب سے پوچھا کہ آپ مثیل مسیح ہیں۔اس لئے ان واقعات سے خوف آتا ہے۔جومسیح کی جماعت سے پیش آئے فرمایا کہ ہاں خوف تو ہے لیکن چونکہ میں مہدی بھی ہوں اس لئےاللہ تعالیٰ انجام نیک کرے گا پس گو خوف ہے لیکن تیک انجام کی بڑی امیدیں لگی ہوئی ہیں۔مسیح ناصری کے بعد غیر قوموں کا حملہاب میں اصل مضمون کی طرف آتا ہوں اور بیان کرتا ہوں کہ وہ ابتلاء کیا تھا جو حضرت مسیحؑ کے بعدآپ کی جماعت کو آیا۔انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیحؑ کی وفات کے بعد آپ کی جماعت کو غیر قوموں نے اپنی طرف کھینچنا شروع کیا اور حالات میں کچھ ایسے پیدا ہوتے گئے کہ جن کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسیحی لوگ ان میں مل گئے۔ان مٹھی بھر آدمیوں پر وہ کثرت غالب آئی اور یونانی اور رومی مشرکانہ خیالات اورمداہنت ان میں پیدا ہو گئی۔بعض حواری جو الگ رہے ان کا بقیہ خاتم النّبيّن ر سول رب العلمینﷺ الی یوم الدین کے وقت تک چلا۔لیکن چونکہ اصل توحیدآ گئی۔اس لئے ان کو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا سے اٹھا لیا اور وہ اپنا کام کر کے خاموشی کے ساتھ اس دنیا سےگذر گئے۔چنانچہ سلمان فارسیؓ بھی انہیں لوگوں کے بتائے ہوئے رسول اللہ اﷺکے پاس آئے تھے۔مسیح ثانی کی وفات پر ثابت قدمی ہمارے حضرت کی زندگی کے آخری ایام میں اور بعدوفات کے بھی اس قسم کی تحریکات مخالفین سلسلہ کیطرف سے ہوئی ہیں۔اور ہو رہی ہیں۔ایک وہ وقت تھا کہ ہمارے بر خلاف چاروں طرف سے کفرکے فتوے شائع ہوتے تھے۔ہمارے سلسلہ کے کمزور اور ضعیف انسانوں کو بے طرح کچلا جاتا تھا۔وہ