انوارالعلوم (جلد 1) — Page 286
کو آتی تھیں کہا کہ یسوع تو اب یہاں نہیں ہے بلکہ چلا گیا ہے تم جا کر اس کے شاگردوں سے کہو کہ وہ گلیل میں تم کو ملے گا۔غرض وہ وہاں گئیں اور گلیل میں سب شاگرد اکٹھے ہوئے اور یسوع بھی چھپتا ہو اوہاں پہنچا۔مگر اس کے شاگردوں نے شک کیا۔کہ شاید یہ اس کی روح ہے مگر بقول یوحنا کےاس نے تھوما سے کہا کہ وہ اس کے زخموں میں انگلیاں ڈال کر دیکھے کیونکہ روح میں ہی ہڈی نہیں ہوتی۔اور پھر ان کے ساتھ بیٹھ کر مچھلی اور روٹی اور شہد کھایا۔اب ان تمام واقعات کو ملا کر دیکھو کہ کیا ان سے یسوع کی وفات ثابت ہوتی ہے یا اس کا بچ جاتاثابت ہے۔حاکم وقت اس کو بچانا چاہتا تھا۔اور اس کی بیوی نے خواب دیکھا تھا کہ اگر اس کو تکلیف پہنچی تو تمہاری خیر نہیں۔اس کو یقین تھا کہ یسوع بے گناہ ہے۔پھر جب وہ صلیب پر لٹکایا گیا ہے۔توجمعہ کا دن تھا اور شام کا وقت اور باوجود اس کے اند ھیری آگئی۔اور یہودی ڈرے کہ کہیں شام نہ پڑگئی ہو۔کیونکہ ان کے مذہب کے رو سے ہفتہ کے رو زکسی کو صلیب پر لٹکانا عذاب کا محرک تھاپس انہوں نے اسے بہ موجب مختلف روایات کے اڑھائی گھنٹہ سے پانچ گھنٹہ تک لٹکایا۔حالانکہ صلیب پر آدمی تین دن تک نک کر بھی زندہ رہتے تھے اور ہڈیاں توڑے جانے پر مرتے تھے۔پھر مسیحؑ دوتین گھنٹوں میں کیونکہ مرگیا۔پھر اس کے دو ساتھیوں کی توہڈیاں تو ڑی گئیں۔اس کی ہڈیاں بھی تو ڑی نہ گئیں اور اس کا پہلو چھیدنے پر خون ثلا جو زندگی کی علامت ہے پھر اس کے شاگر د یوسف نےجھٹ پٹ اس کی لاش حاصل کرنے کی کوشش کی اور خود حاکم وقت کو شبہ ہوا کہ اتنی جلدی یسوع کیونکر مرگیا۔لاش حاصل کر کے کسی تنگ قبر میں نہیں بلکہ ایک کمرہ میں رکھی تاکہ ہوا کا گزر رہےپھریسوع ہوش آنے پر چھپ کر نکلا اور حلیل گیا اور خفیہ خفیہ ہی شاگردوں سے ملا اگر وہ مرکر زنده ہوا تھا۔اور اب پھر خدا ہو گیا تھا تو اسے چھپنے کی کیا ضرورت تھی۔اور پھر خودیہودیوں کو شبہ تھا کہ وہ زنده۔ہے تبھی انہوں نے پہرہ مقرر کیا۔غرض یسوع پر مسیحیوں کی طرح حواریوں نے بھی شبہ کیا کہ شاید کوئی روح ہے۔مگر اسنے انہیں اپنے زخم کھائے۔اور ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا۔اب ان سب واقعات کو دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ وہ مر گیا تھا۔بلکہ ثابت ہے کہ وہ زندہ تھا۔اور علاوہ ان واقعات کے تاریخی شہادت بھی ہے کہ یہودیوں نے اس کی تلاش کی اور وہ ان سے چھپتا ہواکشمیرمیں آیا۔اور یہاں ایک سو بیس برس کی عمرپا کر فوت ہو گیا۔اور خانیار محلہ میں اس کی قبر ہے اور میں نے خود دیکھی ہے چنانچہ میں نے اس کی نگہبان بڑھیا سے پوچھا کہ یہ کس کی قبر ہے تو اس نے کہا کہ عیسیٰؑ نبی کی جو کسی اور ملک سے آیا تھا۔پھر میں نے جب اس سے سوال کیا کہ مولوی تو کہتے ہیں کہ