انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 287

وہ آسمان پر زندہ چلا گیا تو کیونکر کہتے ہیں کہ وہ مرگیا۔تو اس نے کہا کہ وہ تو پڑھے ہوئے ہیں میں ان کے مقابلہ میں کیا کہہ سکتی ہوں مگر بڑوں سے یونہی روایت آئی ہے۔پھر خود مسیحؑ کا کہنا کہ میں اسرائیل کی گم شدہ بھیڑوں کے لئے آیا ہوں ظاہر کرتا ہے کہ اس کا کشمیر اور افغانستان میں آناضروری تھا۔چنانچہ کشمیر میں اب تک بابل اور ہاروت ماروت کی قبریں موجود ہیں جو ظاہر کرتی ہیں کہ یہ لوگ بنی اسرائیل کا بقیہ ہے۔اور خود لفظ کشمیر جو اصل میں کسیر ہے اس بات کی گواہی دیتا ہےکہ یہ لوگ بنی اسرائیل ہی سے ہیں کشمیریوں سے پوچھ کر دیکھو کہ وہ کون ہیں۔تو وہ یہی جواب دیں گے کہ کا شریعنی کشمیر کے رہنے والے۔جس کے معنی ہیں ک شیریعنی وہ ملک جو شام کی مانند ہےچنانچہ یروشلم کا علاقہ شیر باسیر* کہلاتا تھا پس عقلاً بھی او رنقلاً بھی یسوع کا وہاں آنا ثابت ہے۔اوراس کا صلیب سے بچ ر ہنایقینی۔پس جب ثابت ہوگیا کہ یسوع صلیب سے زندہ اتر آیا تھا۔اور مرانہ تاتو کفار و خور باطل ہو گیا۔کفار پر دیگر اعتراضات جس قدرثبوت میں نے کفارہ کے ابطال کے دیئے ہیں ان سےکافی طور سے ثابت ہو گیا ہے کہ کفار کا مسئلہ من گھٹرت ہے۔اوربائبل سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کیونکہ اول تو خدائے تعالیٰ کی توحید ثابت ہے اور تثلیث بے ثبوت ہے۔پھر یہ ثابت نہیں کہ ایک سے زیادہ خدا اگر مان لئے جائیں تو وہ باپ بیٹا ہیں اور پھر اگرباپ بیٹا بھی ہیں تو مسیح ہی وہ بیٹا ہے کیونکہ اگر بیٹا ہونا ضروری ہو تو اور آدمی موجود ہیں کہ جو ہرطرح ابنیت کے یسوع سے زیادہ حقدار ہیں۔اور اگر یسوع کو بیٹامان بھی لیا جائے تو یہ ثابت نہیں کہ اس نے خوشی سے صلیب پر لٹکایا جانا پسند بھی کیا تھا تو اس کا صلیب پر مرنا ثابت نہیں بلکہ صلیب سے صاف بچ کر کشمیر کی طرف چلا جانا ثابت ہے۔لیکن اب میں کفارہ کے متعلق اور چند اعتراضات پیش کرتا ہوں کہ جن سے کفارہ کے خیال کی کمزوری ثابت ہوتی ہے۔اول یہ کہ بابل میں ہے کہ جو کاٹھ یعنی صلیب پر لٹکایا جائے گاوہ لعنتی موت مرے گا۔اور خدا سے دور ہو گا پس کیونکر ممکن ہے کہ ایک شخص کی نسبت جو خدا کا بیٹا بھی مانا جائے یہ بات کہی جائےکہ ایک وقت اس پر ایسا آیا تھا کہ وہ خدا سے دور ہو گیا تھا کیونکہ خدا سے دور ہو نادل سے تعلق رکھتا ہے۔اور جب ایک شخص خدا تعالیٰ سے غافل ہو جائے اور اس سے نفرت کرنے لگے۔تو کہا *سیر کالفظ سوری سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں پھول اور سیریا کے معنی ہوئے وہ زمین جو خوبصورت پھولوں والی ہے اور کشمیر کو پھولوں کی منڈی ہے اس کا نام بنی اسرائیل نے اپنے وطن کی یاد میں کسیر رکھ کر اس شاعر کی تائید کی ہے۔جو کہتا ہے۔اگر فردوس بر روئے زمیں است۔۔ہمیں است وہمیں است و ہمیں است۔