انوارالعلوم (جلد 1) — Page 282
انوار العلوم جلد 1 ۲۸۲ نجات سخت مصیبتوں کے اور دشمنوں کے حملہ کے کامیاب ہوا۔ خدا کا بیٹا کہلانے کا مستحق ہے یا وہ جو مقابلہ چین اور آرام سے زندگی بسر کر رہا تھا اور جس کے راستہ میں کوئی سخت رکاوٹیں نہیں تھیں۔ مگر باوجود اس کے ناکامی و نامرادی سے اس دنیا سے گزر گیا۔ (بقول مسیحی صاحبان کے ) یہ تو دنیاوی کامیابی ہوئی علاوہ اس کے کامل تعلیم بچے اور مخلص مرید اور پاک زندگی اور بے نظیر معجزات اور قدسی صفات کے لحاظ سے بھی رسول اللہ کو مسیح پر بدرجہا فضیلت تھی۔ پس کوئی مسیح ثابت رنگ بھی لے لو اور کسی طریق پر بھی آپ کا مسیح سے مقابلہ کر لو۔ آپ کی فضیلت مسیح پر ہے۔ پس اگر کسی معنے میں کوئی خدا کا بیٹا کہلا سکتا ہے ۔ تو وہ رسول اللہ ہیں نہ کہ مسیح ۔ علاوہ ازیں نے اپنے آپ کو خدا کا بیٹا کہا بھی نہیں بلکہ وہ تو ہمیشہ ابن آدم ہی کہلا تا رہا۔ ہاں اگر سمجھیں ۔ خدا کے بیٹے کا لفظ اس نے اپنے لئے استعمال کیا بھی تو ان معنوں میں تو بہت سے آدمی خدا کے بیٹے ہیں۔ مثلاً کل یہودیوں کی نسبت توریت میں ہے کہ تب تو فرعون کو یوں کہیو کہ خداوند نے یوں فرمایا ہے کہ اسرائیل میرا بیٹا بلکہ پلوٹھا ہے " ( خروج ۴ آیت (۲۲) سو اس آیت سے تو کل بنی اسرائیل ہی خدا کے بیٹے بلکہ پلوٹھے معلوم ہوتے ہیں مسیح کی خصوصیت ہی کیا ہے۔ اس کے بعد جو بات کفارہ کے مسئلہ پر روشنی ڈالتی یسوع صلیب پر خوشی سے نہیں چڑھا ہے یہ ہے کہ آیا مسیح صلیب پر ٹکایا جانے کے لئے خوش بھی تھا یا نہیں ۔ اگر وہ ناراض تھا تو پھر کفارہ کا مسئلہ کسی طرح بھی صادق نہیں ہو سکتا۔ اور اس کے لئے ہم کو دور جانے کی ضرورت نہیں خود مسیح کی اس وقت کی حالت کا بیان کافی ہو گا۔ چنانچہ متی ۲۶ آیت ۳۶ تا ۴۰ میں لکھا ہے کہ ”پھر یسوع ان کے ساتھ سمنی نام ایک مقام پر آیا ۔ اور شاگردوں سے کہا یہاں بیٹھو جب تک میں وہاں جا کر دعا مانگوں تب اس نے پطرس اور زیدی کے دو بیٹے ساتھ لئے اور غمگین اور نہایت دلگیر ہونے لگا۔ تب اس نے ان سے کہا کہ میرا دل نہایت غمگین ہے بلکہ میری موت کی سی حالت ہے۔ تم یہاں ٹھہرو اور میرے ساتھ جاگتے رہو اور کچھ آگے بڑھ کر منہ کے بل گرا۔ اور دعا مانگتے ہوئے کہا کہ اے میرے باپ اگر ہو سکے تو یہ پیالہ مجھ سے گزر جائے تو بھی میری خواہش نہیں بلکہ تیری خواہش کے مطابق ہو ۔ پھر لو قا ۲۲ آیت ۳۹ تا ۴۶ میں ہے کہ ”اور وہ نکل کے اپنے دستور پر زیتون کے پہاڑ کی طرف چلا۔ اور اس کے شاگرد اس کے پیچھے ہو لئے اور اس جگہ پہنچے اس نے ان سے کہا دعا مانگو تاکہ آزمائش میں نہ پڑو اور اس نے ان سے تیر کے ایک ٹپے پر بڑھ کے گھٹنے ٹیک کر دعا مانگی۔ اور کہا کہ اے باپ اگر تو چاہے تو یہ پیالہ مجھ te