انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 279

انوار العلوم جلد 1 ۲۷۹ دکھلاتا ہوں کہ ان دونوں میں سے کن کو دوسرے پر فضیلت ہے۔ مسیح کی پیدائش جس ملک میں ہوئی ہے وہ اپنے وقت میں امن و امان کے لئے مشہور تھا۔ لیکن اس کے بر خلاف رسول اللہ " جس ملک میں پیدا ہوئے ہیں وہ اپنے فسادوں اور جنگوں کے لئے شہرہ آفاق تھا۔ اور ان دونوں باتوں کو مد نظر رکھ کر ایک عقلمند انسان خوب سمجھ سکتا ہے کہ آپ کو اس ملک کے درست کرنے کے لئے کیا کیا مشکلات پیش آسکتی تھیں اور بر خلاف اس کے مسیح کسی امن و چین میں تھا۔ کیونکہ یروشلم پر اس وقت رومیوں کی حکومت تھی جو کہ اپنے وقت میں قانون کی پابندی کے لئے ایک خاص شہرت رکھتے تھے اور ان کے ملک میں کسی کی مجال نہ تھی کہ کسی شخص پر بلا قانون کے ظلم کر سکے ۔ پس مسیح کا اس ملک میں پیدا ہونا اس کے لئے بہت سی آسانیوں کا باعث تھا کیونکہ گو اس کے مخالف اس کی تعلیمات کے اور اس کی جان کے ہی مخالف ہوں لیکن جوش کے ماتحت اس پر حملہ نہیں کر سکتے تھے۔ اور گو وہ غضب میں اندھے بھی ہو جاتے مگر ان کے لئے بغیر قانون کی آڑ کے اور کوئی وسیلہ نہ تھا جس سے مسیح کو سیدھا کر سکیں۔ بر خلاف اس کے رسول اللہ اللہ کو جس قوم سے واسطہ پڑا تھا وہ اپنے جوشوں کے پورا کرنے کے لئے بالکل آزاد اور مختار تھی اور کوئی قانون نہ تھا جو ایسے سخت سے سخت ارادوں کی روک تھام کر سکے اور نہ صرف کوئی دنیاوی سلطنت یا قانون ہی اس کو اپنی حدود میں نہ رکھ سکتا تھا بلکہ کوئی شریعت بھی اس قوم کے پاس نہ تھی جو کہ اس کے دل پر حکومت کرتی ہو اور نہ ہی علوم سے ان کو کچھ بہرہ تھا کہ اخلاق کی رہنمائی سے ہی وہ اپنے جوشوں سے باز رہتی۔ پس اگر مسیح کی قوم قیدی تھی تو یہ اس کے برخلاف آزاد تھی اور اگر وہ بند تھی تو یہ کھلی تھی۔ اور اگر اس کے رستہ میں رکاوٹیں تھیں تو یہ بے روک ٹوک تھی اور اگر وہ اپنے جوشوں کے پورا کرنے سے قاصر تھی تو یہ قادر تھی اور وہ کسی شریعت کے جوئے یا عذاب کے خوف کے نیچے تھی تو یہ ان دونوں باتوں سے بری۔ پس جو اختیار کہ مسیح پر اس کی قوم کو تھا۔ اس سے کہیں زیادہ رسول الله الله پر آپ کی قوم کو تھا اور جو نقصان کہ مسیح کی قوم اس کو بسبب گوناگوں رکاوٹوں کے نہ پہنچا سکتی تھی وہ رسول اللہ کی قوم اپنی آزادی کی وجہ سے پہنچا سکتی تھی۔ پھر مسیح قانون کی پناہ میں ہونے کے علاوہ اپنے ماں باپ کی پناہ اور اپنے بھائیوں کی حمایت میں تھا بر خلاف اس کے رسول اللہ کے والدین اور دادا آپ کے بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے ۔ اور صرف ایک چچا کی مدد آپ کے ساتھ تھی۔ پھر مسیح کی تعلیم وہی تھی جو کہ توریت و زبور وغیرہ کی ہے لیکن رسول اللہ کفار کے تھی۔ پھر کی کہ رو کے اپنے طرز عمل کو ہی برا نہ کہتے تھے بلکہ ان کے معبودوں کو بھی حَصَبُ جَهَنَّمَ قرار دیتے تھے ۔ جس نجات