انوارالعلوم (جلد 1) — Page 266
ہے۔دوسرے تو بہ تو اسے کہتے ہیں کہ ایک شخص یک لخت اپنی غلطی پر آگاہ ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف آئے اور اس کا دل غم کے مارے پگھل جائے اور وہ رنج و الم کے پہاڑوں کے نیچے دب جائے مگراس ارادہ سے گناہ کرنے والا انسان کہ میں ایک مدت تک گناہ کر کے پھر چھوڑ دوں گا تو پہلے سے ہی سکیم تیار کر چکا تھا۔اس کی جھوٹی توبہ توبہ کہلا ہی کب سکتی ہے اور ایسے شخص کادل تو ایسا ہو گاکہ اسے توبہ کا موقع ہی نہ ملے گا چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ والله لا يهدي القوم الفسقين( المائده۔۹ ۱۰) و الله لا يهدی من ھو مسرف کذاب( المؤمن : ۲۹) و الله لا يهدي القوم الظلمين (البقره: ۲۵۹) پس پھر کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ اسلام نے توبہ کا دروازہ کھول کر گویا گناہوں کا دروازہ کھول دیا ہے۔دوسرا جواب اس اعتراض کا یہ ہے کہ مخالف کا اعتراض مان کر بھی تو بہ گناہوں کی محرک تب ہو سکتی تھی کہ اگر انسان کو اس کی موت کا وقت بتا دیا جاتا کہ فلاں شخص فلاں وقت مرے گا اورفلاں فلاں وقت مرے گا۔کیونکہ اس صورت میں ہو سکتا تھا کہ بعض لوگ کہتے کہ مرنے سے پہلےتوبہ کرلیں گے لیکن خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِۚ-وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَۚ-وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِؕ-وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًاؕ-وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۠ (لقمان :۳۵) یعنی اللہ ہی جانتا ہے کسی کی مقررہ گھڑی کب آئے کی۔اور وہی بارش نازل کرتا اور رحموں میں جو کچھ کہ ہے اسے جانتا ہے اور نہ کوئی جانتا ہے کہ اس نے کل کیا کچھ کمانا ہے اور نہ کوئی یہ جانتا ہے کہ اس کو کس مقام پر موت آنی ہے۔ہاں اللہ تعالیٰ تو بڑا جاننے والا اور خبردار ہے۔پس اس آیت میں خدا تعالیٰ زمانہ اور مکان دونوں کی نفی فرماتا ہے۔اور فرماتا ہے کہ نہ تو انسان یہ جانتا ہے کہ وہ کب مرے گا کیوں کہ اس صورت میں وہ موت سےپہلے تو بہ کر سکتا ہے اور نہ وہ یہ جانتا ہے کہ وہ کہاں مرے گا۔کیونکہ اس صورت میں شریر آدمی اس مقام پر جاتے ہی نہ اور اگر جانا پڑ تاتو وہاں رہنے کے زمانہ میں توبہ کرتے تب بینک فساد کا خطرہ ہو سکتاتھا۔مگر انسان کو نہ اپنے مرنے کے ایام معلوم نہ مقام معلوم اور علاوہ اس کے فرماتا ہے کہ وہ یہ بھی تو نہیں جانتا ہے کہ کل اس کے حالات کیسے ہوں گے آیا توبہ کی توفیق ملے گی یا نہیں کیونکہ وہ ناواقف ہے کہ کل اس نے کیا کمانا ہے ، پس اس آیت نے اس اعتراض کا کامل جواب دے دیا ہےکیونکہ ہم روزانہ دیکھتے ہیں کہ بو ڑ ھے ہی نہیں بچے بھی اور جوان بھی او ر ادھیڑ بھی مرتے رہتےہیں اور پیار میں انسان پر ایسی اچانک آتی ہیں کہ ایک منٹ میں جان کا خاتمہ کر دیتی ہیں بعض دفعہ