انوارالعلوم (جلد 1) — Page 262
انوار العلوم جلد 1 ۲۶۲ نجات ان کے پچھتانے پر ان کے ساتھ سختی کے ساتھ پیش نہیں آتا۔ بلکہ نرمی کرتا ہے۔ اور اگر خدا تعالیٰ کو نعوذ باللہ رحیم نہ مانا جائے اور توبہ کو قبول کرنے والا نہ مانا جائے تو ایک اور بھی عظیم الشان اعتراض پڑتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہمارا خالق نہیں ہے کیونکہ خالق اپنی مخلوق کے خواص سے خوب واقف ہوتا ہے۔ اور فطرت انسانی میں ہم رحم کا مادہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا پاتے ہیں پس اب دو صورتوں میں سے ایک صورت ہے یا تو آریوں ، مسیحیوں کا خدا (نعوذ باللہ ) ہمارا خالق نہیں کیونکہ اس کو معلوم نہیں کہ فطرت انسانی میں محبت اور رحم کا مادہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے تب ہی تو وہ ہم کو وہ تعلیم دیتا ہے جو ہماری فطرت کے برخلاف ہے اور جب وہ ہماری فطرت کے بر خلاف ہے تو اس پر عمل کرنا تکلیف مالا طاق ہے۔ اور اگر وہ ہمارا خالق ہے اور ضرور ہے تو ماننا پڑے گا کہ وہ ضرور رحیم ہے کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ وہ ہماری فطرت میں تو یہ بات رکھ دے کہ رحم کو ہم عدل سے زیادہ سمجھیں ۔ اور پسند کریں اور خود رحیم نہ ہو کیونکہ اس صورت میں ہم کو (نعوذ باللہ ) اس سے کبھی بھی محبت نہیں پیدا ہو سکتی۔ اب میں میں خدا کے فضل و کرم سے قوانین فطرت اور نیچر سے ثابت کر چکا ہوں کہ خدا تعالیٰ ضرور رحیم ہے اور توبہ کو قبول کرتا ہے کیونکہ محبت حسین سے ہوتی ہے اور رحم ایک بڑا حسن ہے۔ پس کسی صورت میں خدا تعالی جو اصل معشوق ہے اس حسن سے خالی نہیں ہو سکتا اور یہ کسی صورت میں بھی ممکن نہیں کہ وہ مہربان خدا جو والدین سے لا انتہا درجہ زیادہ محبت کرنے والا ہے جبکہ اس کے آگے ہم پشیمان ہو کر جائیں اور شرمندگی سے اس کی دہلیز پر اپنی گردن جھکا دیں تو وہ ہم کو کند چھری سے ذبح کر دے اور اگر ایسا ہو تو خدا تعالیٰ اخلاق میں انسان سے بھی اونی متصور ہو گا جو نا ممکن ہے ۔ اور یہ بھی میں نے ثابت کیا ہے کہ اس عقیدہ سے پھر خدا تعالیٰ کے خالق ہونے سے بھی جواب دینا پڑتا ہے پس وہی طریق راست اور درست ہے کہ جو قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے اور جیسا کہ میں آیات کے حوالوں سے ثابت کر آیا ہوں کہ خدا تعالیٰ ضرور رحیم ہے اور گناہوں کو ضرور بخشتا ہے اور اس جب جیسا تو بہ کو قبول کرنے والا اور کوئی ہے ہی نہیں ۔ کیونکہ وہ وحدہ لا شریک ہے چنانچہ مسیحیوں کے لئے تو یہ یہ مثال کافی ہے کہ جب یونس نبی کی قوم پر اس ۔ م پر اس کے کفر کی وجہ یا وجہ ہے عذاب آیا تو ان کے چیخنے اور چلانے پر وہ عذاب ہٹ گیا پھر یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کو بخشا اور خدا نے اسے ملامت نہ کی خود مسیح کہتا ہے کہ : وہ مسیحی خدا تعالیٰ کو رحیم تو کہتے ہیں اور آریہ دیا لو کر پالو مانتے ہیں مگر چونکہ عملاً اس صفت کے منکر ہیں کیونکہ توبہ کے قبول کرنے اور گناہوں پر چشم پوشی کرنے میں اسے قاصر جانتے ہیں۔ اس لئے میں نے اس مضمون میں اس جگہ لکھا ہے کہ وہ اس کے رحیم ہونے سے منکر ہیں۔