انوارالعلوم (جلد 1) — Page 245
ہے کہ اگر ایک مذہب کو مانا جائے تو دوسرے کو ضرور ہی غلط کہنا پڑتا ہے۔کیونکہ یا تو انہوں نے خدا تعالیٰ کی صفات میں کچھ کمی کردی ہے یا زیادتی ورنہ اگر غور سے دیکھا جائے تو کیاہنودیا آریہ یا مسیح یا یہودی یا زرتشتی جان بوجھ کر اپنے آپ کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں اور دوزخ کو دیکھتے ہوئے اس میں کودنے کی کوشش کرتے ہیں؟ بلکہ اس کے بر خلاف ہم دیکھتے ہیں تو دہریت کو چھوڑ کر باقی کل مذاہب اس طاقتور ہستی سے تعلق پیدا کرنے کے لئے کوشاں ہیں اور مختلف طریقے اور جائز اورناجائز وسائل سے اسے خوش کرنے اور اپنے پر مہربان کرنے کے لئے گئے ہوئے ہیں صرف فرق اتنا ہے کہ اس کی صفات میں دھوکہ کھایا ہے اور اس لئے راستہ سےبھٹک گئے ہیں۔ان کی مثال ایسی ہے کہ جیسے چار آدمی ایک شہر کی تلاش میں نکلیں۔اور ایک تو ٹھیک سیدھےراستہ پر چلا جائے اور باقی اپنی جلد بازی اور پانی کی وجہ سے اصل جہت کو چھوڑ کر وو سری راہیں اختیار کریں اور ان میں سے کوئی شمال کو چلا جائے کوئی جنوب کو چلا جائے اور کوئی مشرق کو چلاجائے۔پس اس میں شک نہیں کہ یہ سب اس شہر کی تلاش میں سر گرداں و کوشاں ہیں۔لیکن یہ فرق ہو گیا ہے کہ ایک تو ان نشانات پر جو بتائے گئے تھے چلاجا تا ہے اور آخر منزل مقصود کو پہنچ بھی جائےگا۔مگر باقی تین نے اپنی طرف سے کچھ ایسی باتیں ان نشانات میں ملالیں کہ اصل راستہ سےبھٹک کرکہیں سے کہیں چلے گئے اور اگر اصل راستے کی طرف لوٹے تو ضرور ہے کہ اسی طرےح چلتے چلتے مر جائیں گے اور منزل مقصود کو نہ پائیں گے مگر اس میں کچھ شک نہیں کہ ان کو بھی اس شہر تک پہنچنےکی تڑپ ہے۔اس طرح موجودہ مذاہب میں سے سچےمذہب کو چھوڑ کر (خواہ وہ کوئی مذہب ہو) باقی سب مذاہب کے پیرو کو خدا تعالیٰ سے ملنے کی تڑپ رکھتے ہیں مگروہ نشانات جوان کو اس کے ملنے کےلئے بتائے گئے تھے (یعنی اس کی صفات) ان میں انہوں نے ایسی خود ساختہ باتیں ملالی ہیں کہ اب وہ اصل راستہ سے بھٹک کر کہیں کے کہیں نکل گئے ہیں اور ان آلائشوں کی وجہ سے جن میں آلوده ہو گئے ہیں زمین و آسمان کے خدا کو چھوڑ کر اپنے خیالات کے بمو جب کچھ اور خدا تجویز کر کے ان کے پیچھے لگ گئے ہیں اور ان کی مثال ان بکریوں کی ہے کہ جنہوں نے رات کے وقت اپنے مالک کے قدموں پر چلنا ترک کردیا اور ادھر ادھر ہو گئیں اب چور ان کو بلاتا ہے اور وہ اس کے پیچھے لگ جاتی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ وہ اس کا مالک ہے مگر صبح سے پہلے وہ ان کو قصاب کے سپرد کردے گا اورآئندہ ان کو اپنا گھر دیکھنا نصیب نہ ہو گا۔چنانچہ اس دھوکے میں پڑ کر کسی نے تو محبت کے جوش میں برہما، وشنو، کرشن اور رام چندر