انوارالعلوم (جلد 1) — Page 240
انوار العلوم جلد 1 الده نجات ہر ایک اپنی ہی سچائی کا دعوی پیش کرتا ہے ۔ مگر آنحضرت کے دعوی کے بعد تیرہ سو برس گزر گئے ہیں کہ کسی نے آج تک نبوت کا دعوی کر کے کامیابی حاصل نہیں کی۔ آخر آپ سے پہلے بھی تو لوگ نبوت کا دعوی کرتے تھے ۔ اور ان میں سے بہت سے کامیاب ہوئے ۔ (جن کو ہم تو سچا ہی سمجھتے ہیں) ہیں) مگر آپ کی بعثت کے بعد یہ سلسلہ کیوں بند ہو گیا۔ اب دل بند ہو گیا۔ اب کیوں کوئی کامیاب نہیں ہوتا صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہی پیشگوئی ہے کہ آپ خاتم النبین ہیں۔ اب ہم اسلام کے مخالفین سے پوچھتے ہیں کہ اس سے بڑھ کر کیا نشان ہو سکتا ہے کہ آپ کے دعو دعوے کے بعد ، بعد کوئی شخص جو مدعی نبوت ہوا ہو کامیاب نہیں ہوا۔ پس اس کی طرف اشارہ تھا کہ كَانَ اللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا یعنی ہم نے آپ کو خاتم النبیین بنایا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ آپ کے بعد اب کوئی نبی نہ آئے گا اور کوئی جھوٹا آدمی بھی ایسا دعوی نہیں کرے گا کہ ہم اس کو ہلاک نہ کر دیں۔ چنانچہ یہ ایک تاریخی پیشگوئی ہے کہ اس کارڈ کسی سے ممکن نہیں۔ اگر ہے تو ہمارے سامنے پیش کرو۔ مگر اس طرح نہیں کہ کسی نے دعوی کیا ہو۔ اور لاکھ دو لاکھ اس کے پیرو ہو گئے ۔ بلکہ ایسا آدمی کہ جس نے آنحضرت ا یا آپ سے پہلے نبیوں کی طرح کامیابی حاصل کی ہو مگر کوئی نہیں جو ایسی نظیر پیش کر سکے۔ غرض قرآن شریف نے بڑے زور سے دعوی کیا ہے کہ میں تمام دنیا کے لئے آیا ہوں اور ہر زمانہ کے لئے ہوں مگر بر خلاف اس کے جیسے کہ میں میں پہلے لکھ آیا ہوں۔ دوسر وسری کتب کا یہ دعویی نہیں۔ اس لئے ان کا دعویٰ کرنا کہ ہم نجات سب عالم کے لئے پیش کرتے ہیں۔ کسی طرح بھی درست نہیں اور ان کا کوئی اختیار نہیں کہ اپنی تعلیم غیر مذاہب کے سامنے پیش کریں۔ اور جب ان کو ان کی کتب اس بات کی اجازت ہی نہیں دیتیں تو ہمارے سامنے ان کا اپنی نجات کو پیش کرنا ہی غلط ہے۔ کیونکہ ان کی نجات تو انہیں تک محدود ہے اور اسلام کی نجات سب دنیا کے لئے ہے۔ اور چونکہ خدا تعالیٰ رب العالمین ہے۔ اس لئے سچی بات یہ ہے کہ اصل نجات وہی ہے جو اسلام پیش کرتا ہے۔ جیسا کہ میں پہلے لکھ آیا ہوں میری غرض اس مضمون کو اس جگہ لکھنے سے صرف یہی ہے کہ میں بتاؤں کہ ان لوگوں کی کتب ان کو اجازت ہی نہیں دیتیں کہ یہ اپنی نجات دوسروں کے سامنے پیش کریں۔ پھر ہمارا ان کا مقابلہ کیا چنانچہ میں نے ہر ایک مذہب کے متعلق الگ الگ ثابت کیا ہے کہ سوائے اسلام کے مسیحیت اور آرین مذہب کا غیر قوموں میں پھیلانا بالکل خلاف اصول ہے۔ اور منع ہے چنانچہ اس لئے ان کا ہم سے نجات کے بارے میں بحث کرنا خلاف اصول ہے ۔