انوارالعلوم (جلد 1) — Page 221
انوار العلوم جلد | ۲۲۱ نجات کتاب میں سے دکھائے تاکہ انسان پر اس الہامی کتاب کی عزت ثابت ہو ۔ مثلاً یہی نجات کا مسئلہ ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ اول تو ایک مسیحی اپنی کتاب میں سے دکھائے کہ نجات بھی کوئی چیز ہے اور اگر ہے تو وہ کیا ہے۔ اور پھر اس کے حصول کے کون سے ذرائع ہیں اور یہ تمام باتیں جو بیان کی گئی ہوں۔ تو ان کے ساتھ دلائل بھی دیئے گئے ہوں ورنہ یہی کہنا پڑے گا کہ مدعی ست اور گواہ چست ۔ پس اس مضمون میں انشاء اللہ جو اسلامی اصل پیش کروں گا اسے قرآن شریف سے پیش کروں گا۔ اور اس کے دلائل بھی قرآن شریف سے ہی دوں گا اور اس کی مدد میں اگر کوئی حدیث رسول اللہ ا ہو گی تو اسے بھی تفسیر کے طور پر پیش کروں گا۔ اور میرے خیال میں مذہبوں کا فیصلہ کرنے کے لئے اس سے زیادہ آسان اور کوئی راہ نہیں۔ ورنہ اگر انسان من گھڑت اعتقاد بنانے شروع کر دے ۔ تو پھر مذہب تو کچھ چیز نہیں رہتا۔ اور نہ الہامی کتاب کی ہی کوئی ضرورت رہتی ہے اور بات بھی کیسی لغو ہے کہ جس خدا نے ہم کو پیدا کیا اور ہم ماں کے رحم میں تھے تو وہاں بھی ہماری پرورش کے سامان تیار کئے پھر ہم پیدا ہوئے تو یہاں ماں کی چھاتیوں میں دودھ پہلے سے تیار تھا۔ بڑے ہوئے تو ہر قسم کے خورونوش کے سامان مہیا پائے جس نے دن کے لئے سورج اور رات کے لیئے چاند اور ستارے بنائے ۔ پھر ایسا خدا جو قادر ہے جو دلوں کے بھیدوں سے واقف ہے اور ہر قسم کے وساوس اس پر روشن ہیں۔ کیا اس نے ہماری نجات کے ذرائع نہیں پیدا کئے اور اپنی کتاب میں بھی ان عقائد کا کوئی ذکر نہیں کیا کہ جس پر انسان کی نجات کا دار ومدار ہے۔ اور اس کے لئے اسے اور لوگوں سے التجا کرنی پڑی کہ تم ہمارے لئے کچھ اعتقادات بناؤ کہ جن پر ہم ایمان لائیں اور ان کے لئے کچھ دلائل بھی تلاش کرو کہ تاہم چشموں کی نظروں میں سبک اور ذلیل نہ ہوں۔ اگر مذہب کی یہی اصلیت ہے تو پھر یہ مذہب آج بھی گئے اور کل بھی گئے ۔ میں اس دعوی کو بھی بغیر دلیل کے پیش کرنا پسند نہیں کرتا۔ اس لئے میرے دعوی کی دلیل خود قرآن شریف سے اس کا ثبوت دیتا ہوں کہ قرآن شریف نے ا اس اصول کو تسلیم کیا ہے اور اپنی سچائی کا اسے دار و مدار ٹھرایا ہے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ إِنَّ الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِي أَيْتِ اللَّهِ بِغَيْرِ سُلْطَنٍ أَتْهُمْ إِنْ فِي صُدُورِهِمْ إِلَّا كِبَرُ مَا هُمُ بِبَالِغِيْهِ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ (المؤمن : ۵۷) ترجمہ (وہ لوگ جو کہ اللہ کی آیتوں کے بارے میں بغیر کسی دلیل کے جو ان کے پاس (خدا کی طرف سے آئی ہو ۔ بحث میں لگے