انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 220

خدا کے کام کو کامل کیا اور اس طرح سے وہ بوجھ جو خدا سے نہ اٹھ سکا وہ انسان نے اٹھایا اور خدا کواس مصیبت سے بچالیا۔مثلا ًجب کفارہ کا مسئلہ مسیح صاحبان پیش کریں تو ضروری ہے کہ پہلےتوریت و انجیل سے اس کا دعویٰ پیش کریں اور پھر اس کے دلائل بھی انہیں کتابوں سے پیش کریں۔کیونکہ جب ایک نادان آدمی تک اپنی بات کے ساتھ دلائل بیان کرتا ہے تو کیونکر ہو سکتاہے کہ خدا تعالیٰ جو کوئی فعل لغو نہیں کرتا ایک ایسا بڑا مسئلہ جس پر بنی نوع انسان کی نجات کادارومدار ہو اپنی کتاب میں بیان نہ کرے اور ایک مدت کے بعد انسان کو یہ مسئلہ اپنی عقل سے بناناپڑے۔یا یہ کہ د عویٰ توالہٰی کتاب میں ہو کہ کفارہ کا مسئلہ بھی ایک سچا اور پکا مسئلہ ہے۔مگر اس کےلئے کوئی دلیل نہ رکھی ہو اور انسان کو مجبوراً اس کے لئے دلائل تلاش کرنے پڑیں ، اور خدا تعالیٰ کی مدد کے لئے اسے دن رات کوشش کی ضرورت ہو۔اور پھر کہیں جا کر وہ دعوی ٰجو خدا تعالیٰ نےکیا تھا انسان کی مدد سےتکمیل کو پہنچے اور اسی طرح خدا تعالیٰ کا انسان حامی اور مددگار بن جائے۔پس ضروری ہے کہ کل ایسے مسائل جن پر انسان کی نجات کا دار و مدار ہوان کا دعویٰ الہامی کتاب میں موجود ہو اور اس کے ساتھ دلائل بھی دیئے گئے ہوں ورنہ جیسے مقدمہ والوں کووکیلوں کی تلاش کرنی پڑتی ہے۔ایسے ہی اس کی کتابوں کے لئے بھی ایسے وکلاء کی ضرورت پڑے گی کہ جو خدا تعالیٰ کے بے دلا ئل دعاوی کو ثابت کریں۔پس جس مذہب میں کوئی مہتم بالشان مسئلہ اعتقادی یا عملی جس سے نجات کا تعلق ہو ایساپایا جائے گا کہ جو اس کی الہامی کتاب میں نہیں تو یا تو ہم کہہ دیں گے کہ اس مسئلہ کا تمہاری کتاب کو انکار ہے یا یہ کہ و الہامی کتاب ناقص ہے مگر چونکہ خدا تعالیٰ کی طرف نقص کو منسوب کرنا ایک سخت گناہ ہے اس لئے مجبوراً کہنا پڑاتاکہ یا تو وہ کتاب الہامی ہی نہیں اور یا انسانی دستبرد سے تباہ ہو گئی ہے ورنہ اگر انسان کو اجازت ہو کہ جو کچھ چاہےالہای کتاب کی طرف منسوب کر دے اور کوئی ضرورت نہیں کہ اس میں ہو یا نہ ہو تو دنیا میں شرارت کی کوئی حد نہیں رہے گی۔اور جس کا جو خیال ہو گا وہ اسے خدا کی کتاب کی طرف منسوب کردے گا۔اور اعتراض پر جواب دے گا کہ جیسے تم نے چند عقیدے بنا لئے اور الہامی کتاب میں ان کی کوئی اصل نہیں ویسے ہی میں نے بھی بنا لئے تو اس طرح ایمان اٹھ جائے گا اور امن جا تارہے گا اور مذہب کی سچائی کا کوئی معیار نہ رہے گا اور الہامی کتابوں کی کوئی حقیقت اور وقعت نہ رہے گی۔پس ہر ایک مسئلہ کو پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسان اس کو اپنی کتاب میں دکھائے اور پھر اس کےوالا کل بھی اسی کتاب میں سے دکھائے۔اور اگر دعویٰ دکھا دیا ہے تو پھر اس کے لئے دلائل بھی اسی