انوارالعلوم (جلد 1) — Page 181
انوار العلوم جلد ) ۱۸۱ ہم کس طرح کامیاب ہو سکتے ہیں کچھ پرواہ نہیں کرتے ۔ پھر بعض دفعہ پہرہ داروں اور اردلیوں کی جھڑکیاں کھاتے ہیں مگراف تک نہیں کرتے ۔ تو جب کسی شخص کو خدائے عزو جل سے جو احکم الحاکمین ہے ملنے کا موقعہ ملے تو وہ کیسا خوش نصیب ہے اور اگر وہ سستی کرے تو اس سے بدتر اور کون ہے۔ دیکھو خدا کسی کو جھڑکیاں نہیں دیتا بلکہ اگر کوئی ایک قدم اس کی طرف جاتا ہے تو وہ اس کی طرف دو قدم چل کر آتا ہے اور اگر کوئی آہستہ چل کر آتا ہے تو وہ تیز آتا ہے اور اگر کوئی تیز چل کر آتا ہے تو وہ دوڑ کر آتا ہے۔ اور یہ بات بھی نہیں کہ اس کے دیدار اور ملاقات کے لئے مہینوں یا برسوں انتظار کرنا پڑے بلکہ ایک دن میں کم سے کم پانچ دفعہ اس نے ہمیں ملاقات کا موقعہ دیا ہے پھر اگر ہم سستی کریں تو یہ ہماری بد بختی ہے (نعوذ باللہ ) نہ کہ کچھ اس پر الزام ہے۔ پھر عبادت کے بعد خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ حمد اور شکر بھی کرنا چاہئے اور اس کے احسانوں کو ہمیشہ یاد کرتے رہنا چاہئے۔ دیکھو ایک فقیر کو ایک آدمی پیسہ دیتا ہے تو وہ اس قدر ممنون ہوتا ہے کہ اس کو سچے دل سے ہزاروں دعائیں دیتا ہے اور نہایت شکر گزار ہو ر ہوتا ہے۔ تو پھر خدا تعالیٰ کہ جس نے ہم پر بے پایاں احسان کئے ہماری شکر گذاری کا کس قدر مستحق ہے اور اگر ہم شکر کریں تو اس سے اس کو کچھ فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ خود ہم کو ہی نفع ملتا ہے کیونکہ وہ فرماتا ہے کہ لئِنْ شَكَرْتُمْ لَا زِيدَنَّكُمْ (ابراہیم (۸) یعنی اگر تم لوگ میرا شکر کرو گے تو میں تم کو اور بھی دوں گا اور زیادہ سے زیادہ انعام کروں گا پس اس کے شکریہ ادا کرنے میں ہم اس پر کچھ احسان نہیں کرتے بلکہ الٹا خود فائدہ اٹھاتے ہیں اگر ہم ناشکری کریں تو اس کا نقصان بھی خود ہم کو اٹھانا پڑے گا کیونکہ خدا تعالیٰ کو اس سے کچھ نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ بنگال گورنمنٹ کے بے شمار احسانات کا کفران کر کے اگر بنگالی بر سر فساد ہوئے تو انہوں نے بعض انسانی جانیں لے لیں اور ملک کے ایک حصہ میں بے امنی پھیلا دی لیکن خدائی گورنمنٹ سے کوئی شخص مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اگر کوئی شخص ناشکری کرتا ہے تو وہ خود سزا پائے گا اور وہ غم و غصہ سے کس قدر جوش بھی دکھائے تو بھی لا حاصل ہو گا کیونکہ کسی دنیاوی گورنمنٹ کے عہدہ داروں کو تو بم کے گولے کارگر ہو سکتے ہیں مگر الہی گورنمنٹ ایسی طاقتور ہے کہ اس کے افسروں پر کوئی ہتھیار اثر نہیں کر سکتا کیونکہ ان کے لى اللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (المائدہ : ۶۸) کا حکم جاری ہو چکا ہوتا ہے پھر اگر ہم میں سے کوئی گورنمنٹ کی ناشکری کرے تو بوجہ انسان ہونے کے ممکن ہے کہ اس کے عہدہ دار اس واقعہ سے بے خبر رہیں لیکن آسمانی بادشاہت کے برخلاف کہنے والا تو کبھی بچ ہی نہیں سکتا کیونکہ وہ کسی طرح : بھی اپنے خیالات کو چھپا نہیں سکتا اور چونکہ خدا تعالی مخفی سے مخفی رازوں کو جانتا ہے اس لئے ایسا