انوارالعلوم (جلد 1) — Page 178
انوار العلوم جلد 1 ۱۷۸ ہم کس طرح کامیاب ہو سکتے ہیں کہ ہم مسیح کی وفات کو مان لیں بلکہ خدا نے اپنے رسول یعنی مسیح موعود کی معرفت ہم سے وعدہ کیا ہے کہ اگر اسی جنس کو خریدیں گے جس کو پہلوں نے خریدا تو ہم سے بھی وہی نیک سلوک ہو گا۔ پس چاہئے کہ ہم بجائے اس کے کہ مسیح کی وفات کے متعلق قرآن کی آیتیں اور حدیثیں تلاش کریں اور مسیح کو فوت شدہ ثابت کرنے کی کوشش کریں ہم اپنے نفس کی وفات ثابت کریں اور خدا کی مرضی کے آگے اپنے نفس کو بالکل ہلاک کر دیں کیونکہ اگر مسیح کی وفات ثابت کریں تو دنیا کو کوئی ایسا بڑا فائدہ نہیں پہنچ سکتا ہاں نفس کی وفات ایک ایسی بات ہے کہ جس کے ثابت ہونے کے بعد دنیا میں اصلاح ہو سکتی ہے ۔ ہم خدا کے رسول کو مان کر دنیا کے نزدیک تو کافر اور قابل نفرت ٹھر چکے ہیں ایسا نہ ہو کہ خدا کے نزدیک بھی ہم کافر ہی ٹھہریں اس لئے چاہئے کہ ہر وقت خدا سے ڈر کر کام کریں۔ دنیاوی تجار تیں ہم نے اس لئے چھوڑیں کہ ہم دینی تجارت کریں گے اور اس وجہ سے ہمارے مخالف ہم سے اس بات میں بڑھ گئے اب اگر دین کی تجارت میں بھی سستی کریں تو پھر خسر الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ کے مصداق ہو جائیں گے (نعوذ باللہ ) ہم نے بیعت کے وقت خدا سے گویا کہ وعدہ کر لیا ہے کہ ہم دنیا کی جنس نہ خریدیں گے بلکہ ہمیشہ دین کی جنس کو مقدم رکھیں گے پس چاہئے کہ ہمیشہ اس کا خیال رہے انسان کوئی چیز خریدتے وقت دو چار اور تجربہ کاروں کو بھی دکھا لیتا ہے کہ آیا اس میں کچھ نقص تو نہیں۔ اسی طرح دینی چیزیں خریدنے کے لئے بھی خدا تعالیٰ نے ایسے تجربہ کار عنایت کئے ہیں کہ جو ہمیں ہر ایک چیز کے حسن وقیح سے آگاہ کر دیتے ہیں اور وہ ہمارے اعضاء ہیں مثلا ہاتھ پاؤں دل و دماغ آنکھ کان ناک اور زبان وغیرہ جب کوئی کام ہم ایسا کرتے ہیں جو بری جنس سے ہوتا ہے تو فوراً ہمیں یہ اطلاع دیتے ہیں کہ یہ کام عہد کے خلاف ہوا ہے۔ قرآن مجید میں ہے وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ (ق : (۱۷) میرے خیال میں یہ آیت قرآن شریف کی منجانب اللہ ہونے کا ثبوت ہے کیونکہ اس میں خدا تعالیٰ اس بات کی طرف اشارہ فرماتا ہے کہ قرآن شریف کو میں نے بھیجا ہے جو انسان کا پیدا کرنے والا ہوں اور اس کے کل خیالوں اور وسوسوں کو جانتا ہوں اگر یہ کسی اور شخص یا مخلوق کی طرف سے ہو تا تو اس میں انسان کے دلی خیالات کا اظہار کس طرح ہوتا اور چونکہ اس میں انسان کے کل وسوسوں اور خیالوں کے متعلق ہدایتیں اور جواب ہیں اس لئے صاف ثابت ہوا کہ اس کا بھیجنے والا میں ہی ہوں جو مخلوقات کا رب ہوں۔ پس یہ ایک کیسی کھلی بات ہے جو قرآن شریف اپنے منجانب اللہ ہونے کے بارے میں پیش کرتا ہے انسان کے مختلف وسوسوں کو انسان نہیں جانتا پھر قرآن شریف نے کل وساوس کے