انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 177

انوار العلوم جلد 1 ۱۷۷ ہم کس طرح کامیاب ہو سکتے ہیں دکھا دیا کہ جنہوں نے آپ کے سر پر کانٹے رکھے تھے آخر انہیں کانٹوں کے بستروں پر لوٹنا پڑا اور یہ وہی حضرت عیسی والا وعدہ ہے کہ جس کے طفیل ہم اس وقت یہاں جمع ہو گئے ہیں کیونکہ خدا کے فضل سے ہماری گورنمنٹ برطانیہ نے جو ایک عیسائی سلطنت ہے ہمیں مذہبی آزادی دے رکھی ہے اور اگر یہ گورنمنٹ نہ ہوتی تو ہم ایسا نہ کر سکتے ۔ غرض ان تین وعدوں کا ذکر خداوند تعالیٰ یہاں فرماتا ہے اور بتاتا ہے کہ یہ تین وعدے ہیں جو میں نے کئے ہیں اور ایسے وقت میں کئے ہیں جبکہ ان کے پورے ہونے کا گمان بھی نہیں ہو سکتا تھا تو پھر انسان کیوں میرے وعدوں پر شک لاتا ہے۔ دیکھو دنیا میں بار بار یہ نظارہ نظر آیا ہے کہ ایک گداگر کو جب ایک جگہ سے ایک پیسہ بھی مل جائے تو جب وہ اس جگہ سے گزرتا ہے تو صدا دیئے بغیر آگے نہیں بڑھتا کیونکہ اسے امید ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے یہاں سے کچھ نہ کچھ مل ہی رہے گا اور اس کا پچھلا تجربہ اسے ایسا کرنے پر مجبور کرتا ہے تو جب خدا تعالی کے وعدوں کو بار بار پورے ہوتے ہوئے دیکھا گیا ہے اور کبھی وہ خطا نہیں گئے تو پھر کیوں اس کے وعدہ پر اعتبار نہ کیا جائے اور کیوں ہم اس کے دروازہ پر گرے نہ رہیں۔ دنیا میں ایک انسان وعدہ کرتا ہے تو ہم اس پر ایمان لے آتے ہیں اور اس پر اعتبار کرتے ہیں پھر خدا کے وعدہ پر کیوں شک لائیں۔ انسان کے وعدہ میں تو بہت مشکلات ہیں مثلاً جو شخص جھوٹا وعدہ کرتا ہے یا اب تو اس نے سچے دل سے وعدہ کیا ہے لیکن چند دن کے بعد نیت بدل جائے پھر اگر نیت بھی نہ بدلے تو جن حالات پر اس نے وعدہ کیا تھا وہ حالات بدل جادیں یا وہ خود فوت ہو جائے یا خور وہ چیز جس کا وعدہ تھا جاتی رہے مگر خدا پر تو یہ گمان بھی نہیں ہو سکتا کہ وہ وعدہ کر کے بدل جائے اور یہ بات بالکل ناممکن ہے کہ اس پر کوئی ابتلاء آئے یا جس چیز کو قائم رکھنا چاہئے وہ ضائع ہو جائے پس انسان کے وعدہ پر تو ہم کو شک کی گنجائش ہے۔ اور طبعاً شک ہونا ہی چاہئے۔ مگر خدا کے وعدہ پر تو شک لانا کفر کی نشانی ہے۔ سلطنت کے ایک ادنی ملازم پر ہم یقین کرتے ہیں کہ جو وعدہ اس نے کیا ہے اسے پورا کرے گا۔ پھر خدا کے وعدہ پر ہم کیوں کر تردد کریں وہ ہمیشہ زندہ ہے جس پر کوئی زوال نہیں جس کی قدرتوں کو کوئی روک نہیں سکتا جس کے قبضہ میں کل کائنات ہے اور جس کی حکومت ذرہ ذرہ پر ہے۔ پس چاہئے کہ انسان بجائے کسی انسان سے وعدہ لینے کے خدا سے وہ وعدہ لے جس کے پورا ہونے میں کوئی شک نہیں ہم سے بھی خدا نے اس وقت ایک وعدہ کیا ہے اور اس کا پورا ہونا ہماری کوششوں پر منحصر ہے یہ مت سمجھو کہ یہ کوئی نیا وعدہ ہے ۔ نہیں بلکہ وہی ہے جس کی نسبت میں نے ابھی آیت پڑھی ہے کہ حَقًّا فِي التَّوْرَيَةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ یہ وعدہ ہم سے اس بناء پر نہیں