انوارالعلوم (جلد 1) — Page 165
سے وہ تمام اعتراضات جو حضرت کی پیشگوئیوں پر پڑتے ہیں۔دور ہو جاتے ہیں۔اور سچائی کا چہرہ روشن ہو جا تا ہے۔اور یہ اس لئے ہے کہ خدائے زمین و آسمان نے اپنے پاک کلام قرآن شریف میں فیصلہ کی کی راہ بتائی ہے۔جیسا کہ میں اوپر بتا آیا ہوں اور ثابت کر آیا ہوں یعنی متشابہات کوچھوڑ کر محکمات پر نظر کی جائے۔اس جگہ میں اس بات کا ذکر کرنا بھی مناسب سمجھتا ہوں کہ اصل ثبوت سچائی کا پیشگوئیاں ہی نہیں بلکہ اور دلائل بھی ہیں جن سے ایک نبی کی سچائی کو ہم ثابت کر سکتے ہیں۔کیونکہ پیشگوئیاں صرف وقتی ہوتی ہیں اور پھر محض قصے رہ جاتے ہیں جس سے آئندہ زمانہ کے لوگ بہت فائدہ اٹھا نہیں سکتے۔بعد ازاں تعلیم رہ جاتی ہے۔اور خود نبی کے وقت میں بھی ایسی اور راہیں ہیں جن سے اس کی سچائی ظاہر ہوتی ہے مثلا نبی کریم اﷺکی سچائی کا ایک ثبوت خدا تعالیٰ ٰنے قرآن شریف میں یہ دیا ہے کہ قُلْ لَّوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوْتُهٗ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَدْرٰىكُمْ بِهٖ ﳲ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(یونس ۱۷)یعنی اے نبی تو ان لوگوں کو کہہ دے کہ اگر اللہ چاہتا تو میں یہ آیات تمہارے سامنے نہ پڑھتا۔اور نہ تم کو ان کی خبر دیتا۔پس تحقیق میں نے اس سے پہلے ایک عمر تم میں گزاری ہے پھر تم کیوں عقل نہیں کرتے۔ینی میں تم میں ایک لمبا عرصہ گذار چکا ہوں پھر تم میری سچائی میں کیا شک لاتے ہو، کیونکہ اگر مجھے پہلے افتراء کرنے کی عادت ہوتی تو اس موقعہ پر بھی تم شک کر سکتے تھے کہ اس کو کوئی الہام نہیں ہوتا بلکہ یہ خود بنا لیتا ہے۔لیکن جب تم میرے پچھلے حالات سے واقف ہو اور جانتے ہو کہ میں جھوٹا نہیں ہوں تو اس موقعہ پر کیوں شک کرتے ہو۔اور جب میں انسانوں پر جھوٹ نہیں بولتا تھاتو اس طرح ممکن ہے کہ اب خدا پر جھوٹ بولوں۔اب دیکھنا چاہئے کہ ایک رسول کی سچائی کے لئے خدا تعالیٰ نے یہ ایک ثبوت رکھا ہے کہ وہ اپنی چلی زندگی کی نظیر دے کر اپنی سچائی کو ثابت کرتا ہے کہ میں ہمیشہ سے نیک عمل کرتا رہا ہوں اور جھوٹ سے مجھے نفرت رہی ہے۔پھر اب میں کیوں خدا پر افتراء باند ھنے لگا۔اب اہل انصاف غور کریں کہ یہی دعویٰ حضرت اقدس ؑنے کیا ہے۔اور آج تک کسی کو جرأت نہیں کہ آپؑ پر کوئی الزام لگا سکے۔پس کیو نکر چند متشابہات پیشگوئیوں کی وجہ سے ہم ان کا انکار کر سکتے ہیں۔مسلمان تو الگ خو دہند و او ر عیسائی بھی اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ آپ اپنی تمام عمر میں نہایت نیک اور پارسارہے ہیں۔پس یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ جو شخص چالیس برس تک ایک عام زندگی بسر کرے اور جھوٹ سے متنفر ہو اورسچ کا شیدا ہو وہ اپنی آخر عمر میں خدا پر افتراء کرے اگر یہ کوئی پائی کی دلیل نہیں تو یاد رکھو کہ