انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 164

الذ ين كفروا إلى يوم القيمة ال عمران : ۵۶) جس سے معلوم ہو تا ہے کہ کفار ہر زمانہ میں رہیں گے۔پس اس بات کی توقع رکھنا کہ کسی نبی کے کلام میں متشابہات نہ ہوں اور محکمات ہی محکمات ہوں ایک ایسا خیال ہے جو کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔اور دوسرے متشابہات میں ایک اور حکمت بھی ہوتی ہے کہ انسانی فطرت کچھ عجیب طرح سے واقع ہوئی ہے کہ جو کوئی بڑا آدمی گذرتا ہے اس کے تابعین کچھ مدت گذرنے کے بعد اس کی پرستش کرنے لگتے ہیں۔مثلا کرشن را مچندر عزیز،مسیحؑ جن کو کچھ مدت بعد خدا کا شریک سمجھ لیا گیا۔پس اگر متشابہات ان کی پیشگوئیوں میں نہ ہوں اور محکمات ہی محکمات ہوں اور بشری لوازمات سے یہ لوگ پاک ہوں تو شاید بجائے خدا کے شریک بنانے کے تمام انبیاءؑ کو خدائی سمجھ لیا جاتا۔چنانچہ اس وجہ سے خدا تعالیٰ نے ان کے ساتھ بشری کمزوریوں کو بھی رکھا ہے۔اور متشابہات کا سلسلہ بھی قائم کر دیا ہے۔تاکہ آئندہ آنے والی نسلیں ان کے حالات کو پڑھ کر اور ان کی پیشگوئیوں کو دیکھ کر اندازہ لگا سکیں کہ یہ لوگ بھی ہماری طرح انسان بھی تھے۔اور خدائی میں ان کی کوئی شراکت نہ تھی۔چنانچہ غور سے دیکھنے سے معلوم ہو تا ہے کہ رامچندرؑ کی بیوی کو راون کا لے جانا اور ان کو خبر نہ ہونا اور پھر بڑی تکلیفوں کے بعد آس پاس کی قوموں سے مدد لے کر راون پر فتح پانااسی لئے تھا کہ ان کی امت ان کو خدائی کا درجہ نہ دے اور اگر دے تو سعيد الفطرت انسان ہمیشہ سمجھ سکیں کہ وہ ایک برگزید ہ نبی تھے۔خدانہ تھے۔اسی طرح حضرت عیسیٰؑ کا یہودیوں سے مار کھا کر سولی پر لٹکایا جانااور تخت کے و عدہ کا جھوٹا نکلنا بھی اسی لئے تھا کہ عیسائی ان کو خدا کا بیٹا کہتے ہوئے شرمائیں اور سعید روحیں ہمیشہ ان باتوں پر غور کر کے شرک کی ملونی سے اپنے آپ کو پاک رکھیں۔پس ظاہر ہے کہ متشابہات کا ہونا نہ صرف اس لئے ضروری تھا کہ سچوں اور جھوٹوں کو الگ کیا جائے بلکہ اس لئے بھی کہ آئندہ نسلیں کسی نبی کو خدا یا اس کا شریک نہ بنالیں۔اور اگر وہ ایساکریں بھی تو سعید انسان عقل سے کام لے کر اس شرک سے الگ رہیں۔پس ہر ایک طالب حق کو چاہئے کہ جو کوئی شخص حضرت اقدسؑ کی بعض پیشگوئیوں پر جو متشابہات سے ہیں اعتراض کرے تو اس کے سامنے یہ معاملہ کھول کر بیان کر دے کہ متشابہات کا ہونا ہر ایک نبی کی پیشگوئیوں کے لئے ضروری ہے۔اور ہر ایک نبی کے ساتھ ایسا ہوتا آیا ہے۔اور خدا کی سنت یہی رہی ہے۔اور سچائی کے دریافت کرنے کے لئے محکمات ہی دیکھے جاتے ہیں۔چنانچہ حضرت اقدسؑ کی خدمات پیشگوئیاں اس کثرت کے ساتھ ہیں کہ کوئی صاحب بصیرت انسان ان کو دیکھ کر آپ کی سچائی میں شک نہیں لا سکتا۔اور یہ فیصلہ کا ایک ایسا آسان اور محکم طریق ہے کہ اس