انوارالعلوم (جلد 1) — Page 146
کیا آپ کو خبر نہیں کہ یمحواللہ مایشاء ویثبت نکاح آسمان پر پڑھا گیا یاعرش پر مگر آخر وہ سب کاروائی شرطی تھی۔شیطانی وساوس سے الگ ہو کر اس کو سوچنا چاہئے۔کیا یونس کی پیشگوئی نکاح پڑھنے سے کچھ کم تھی۔جس میں بتلایا گیا تھا کہ آسمان پر یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ چالیس دن تک اس قوم پر عذاب نازل ہو گا۔مگر عذاب نازل نہ ہواحالا نکہ اس میں کسی شرط کی تصریح نہ تھی۔پس وہ خدا جس نے اپنا ایساناطق فیصلہ منسوخ کردیا گیا اس پر مشکل تھا کہ اس نکاح کو بھی منسوخ یا کسی او روقت پر ٹال دے“ (حقیقت الوحی تتمہ صفحہ ۱۳۳، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفیه ۵۷۱۔۵۷۰) اب غور کرنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود ؑاس پیشگوئی کی نسبت اپنی زندگی میں ہی لکھ گئے ہیں اور فیصلہ کر گئے ہیں کہ یا توہ کسی اور وقت پر ٹل گیا ہے یا بلکل فسخ ہوگیا ہے۔پس اب اس پیشگوئ پر اعتراض کر نانہایت جہالت پردلالت کرتا ہے۔کاش کہ لوگ پہلے بات کی تہ کو پہنچیں اور پھر اعتراض کیا کریں۔یاد رہے کہ آج سے ایک سال پہلے حضرت اقدسؑ یہ فیصلہ کر چکے ہیں۔کہ وہ نکاح بوجہ عورت اور مرد دونوں کے رشتہ داروں کے رجوع کے منسوخ ہو چکا ہے۔اور اگر آپؑ ایسانہ بھی لکھتے تو بھی چونکہ وہ پیشگوئی شرطی تھی۔ہر ایک عقلمند انسان سمجھ سکتا تھا کہ چونکہ ان لوگوں نے جن کی نسبت یہ پیشگوئی تھی رجوع کیا اور توبہ کی اور اس شوخی سے باز آئے جو وہ پہلے دکھلاتے تھے تو وہ فیصلہ بھی ان پر سے ٹل گیا۔پس باوجود اس کے پر اعتراض کرنا اچھا نہیں۔اور ہر ایک معترض کو خدا سے ڈرنا چاہئے کہ وہ بڑی غیرت والا ہے او راپنی آیات پر ہنسنے والوں کو بغیر سزا کے نہیں چھوڑتا۔۳- تیسری بات جس پر اعتراض کیا جا تا ہے۔وہ پانچویں بیٹے کی پیشگوئی ہے جس کی نسبت مخالفین سلسلہ کا خیال ہے کہ وہ اب تک پوری نہیں ہوئی۔کیونکہ حضرت اقدس ؑنے مواہب الرحمن کے صہ ۱۳۹ پر صاف طور سے لکھا تھا۔کہ بشرنی بخامس فی حین من الاحیان یعنی مجھے ایک پانچویں بیٹے کی بشارت دی گئی ہے اور اسی طرح اور بہت سے الہامات سے ثابت ہوتا ہے۔کہ آپ کے ہاں ایک اور لڑکا پیدا ہونے والا ہے مثلا یہ کہ انا نبشرک بغلام حلیم ینزل منزل المبارک ساحب لک غلام زکیّا ربّ ھب لی ذریة طیبة انا نبشرک بغلام اسمہ یحیٰ مظھر الحق والعلا کان اللہ نزل من السماءمگران پیشگوئیوں کے ساتھ ہی مخالفین کو یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت اقدس ؑکا ایک الہام جو کہ اخبار الحکم ۳۰ جون ۱۸۹۹ء کو شائع ہوچکا ہے۔یعنی انی اسقط من اللہ وأصيبه یعنی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتا ہوں اور اسی کیطرف جاتا ہوں۔پھر اس کے بعد الہام ہوا\" كفى هذا“۔اور ساتھ ہی لکھا ہے کہ یہ مبارک احمد کی