انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 145 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 145

کہ یہ پیشگوئی اولاً ایک اشتہار میں جو ۱۸۸۸ء میں شائع ہؤادرج ہوئی تھی۔اور اس میں لکھا گیا تھا کہ بوجہ اس کے کہ آپ کے بعض قریبی رشتہ دارحق کی مخالفت کرتے ہیں ان پر عذاب آئے گا۔اور اطلاع دی گئی تھی کہ اگر احمد بیگ اپنی لڑکی کا نکاح آپ سے نہ کرے گا تو نکاح کے بعد تین سال بلکہ اس سے بھی قریب زمانہ میں مر جائے گا۔اور وہ جو اس لڑکی سے نکاح کرے گا اڑھائی سال کےاندر فوت ہو جائے گا۔اور لڑکی کے والد کے ہاں اور بھی فوتیاں ہوں گی مگر اس کے ساتھ رجوع کی شرط تھی۔کیونکہ یہ تمام سزا ان لوگوں کے لئے اس لئے تجویز ہوئی تھی کہ وہ خدا کی باتوں سے ٹھٹھا کرتے اور اس کے کلام پر ہنستے تھے۔اور جب وہ رجوع کرلیں تو لازم تھا کہ وہ عذاب سے بچائے جائیں جو کہ ان کے لئے مقرر ہو چکا تھا۔پس دیکھنا چاہئے کہ اس پیشگوئ کی ایک شاخ جواحمدبیگ اوراس کے رشتہ داروں کے لئے تھی کیسے زور سے پوری ہوئی اول تو اس پیشگوئی کے مطابق احمد بیگ جس نے بد زبانی کو نہ چھوڑا اور اپنی ضد سے باز نہ آیا اس لڑکی کے نکاح تک زندہ رہا اور جب اس نے ۷اپریل ۱۸۹۲ ء میں اس لڑکی کا ایک اور کے نکاح کر دیا تو وہ پیشگوئی کی مقرر کردہ میعادکےاندر یعنی ۳۱/ دسمبر ۱۸۹۲ء کو فوت ہو گیا۔اور بجائے تین سال کے چوتھے مہینہ تک ہی اس کوعذاب الہی نے گرفتار کر لیا اوراس کے ساتھ تو اس کے گھر میں اور کئی موتیں ہو گئیں۔پس ہر ایک طالب حق جان سکتا ہے کہ اس پیشگوئی کی ایک شاخ کسی زور سے پوری ہوئی۔اول تو احمد بیگ لڑکی کے نکاح تک زندہ رہا پھر وہ نکاح کے بعد چار مہینے کے اندر ہی فوت ہو گیا۔اور اس کے ساتھ ہی اس کے گھر میں اور بھی کئی قوتیاں ہو گئیں۔پس اس کا لازمی نتیجہ تھا کہ وہ شخص جو اس لڑکی کا خاوندتھا رجوع کرتا اور شرارت سے توبہ کرتا۔اور اس لڑکی کی والدہ بھی اپنے گناہوں سے باز آتی چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اور ان لوگوں نے بہت کچھ فروتی دھلائی اور اس لڑکی کا ایک چچااس سلسلہ میں داخل ہوا اور اپنے کل گذشتہ گناہوں سے تائب ہوا۔پس ضروری تھا کہ خدا کا عذاب ان پر سے ٹل جاتا۔اور وہ اس آنے والی آفت سے مامون رہتے کیونکہ جب شرط نہ رہی تو مشروط بھی نہ رہا اور باقی رہا دوباره حضرت مسیح موعودؑ سے نکاح کا معاملہ اس کا جواب دینے کی ہم کو بھی ضرورت نہیں۔کیونکہ حضرت مسیح موعود ؑاپنی کتاب حقیقت الوحی میں خوردے گئے ہیں اور اس کی نسبت خدا کا صاف فیصلہ تحریر فرما گئے ہیں۔اور وہ یہ ہے کہ اس نکاح کے ظہور کے لئے جو آسمان پر پڑھا گیا خدا کی طرف سے ایک شرط بھی تھی جو اس وقت شائع کی گئی تھی اور وہ یہ کہ ایتھا المراة توبی فان البلاء علیٰ عقبک پس جب ان لوگوں نے اس شرط کو پورا کر دیاتو نکاح فسخ ہو گیا یاتاخیر میں پڑ گیا۔