انوارالعلوم (جلد 1) — Page 144
لکھ دیا کہ اب میری عمر ختم ہوگئی ہے اور میری وفات قریب ہے تو پہلا الہام منسوخ ہو گیا۔اور اب دوسرے الہام کے مطابق ہم کو نتیجہ کا انتظار کرنا چاہئے تھاسوایسا ہی ہوا اور آپ عین اسی وقت پر جو کہ بتایا گیا تافوت ہوئے۔پس یہ کیسی صاف بات ہے کہ جب تک کہ حضرت اقدس ؑکہتے رہے کہ میری عمراسّی سال کے قریب ہے اس وقت تک تو آپ زندہ رہے اور آپ نے اس الہام کے مطابق چونتیس سال عمر پائی۔مگر جب آپ نے الہام شائع کیا کہ اب میری وفات قریب ہے۔تو آپ میعاد مقررہ کے اندر فوت ہو گئے۔اور اس طرح دو نشان پورے ہونے اور حضرت اقدس ؑکی سچائی کا ثبوت بنے۔پس بفرض محال اگر مان بھی لیا جائے کہ آپ اسیّ برس والے والے الہام کے مطابق فوت نہیں ہوئے تب بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ الوصیت نے تو اس الہام کو منسوخ کر کے ثابت کر دیا کہ وہ تک بندی نہیں تھی بلکہ خدا کا کلام تھا۔ممکن تھا کہ اگر الوصیت والا الہام پورا نہ ہو تاتو لوگ کہتے کہ آپ نے ایک بڑ مار دی تھی کہ میری عمراس قدر ہوگی سوپوری ہو گئی مگر خدا تعالیٰ نے موت کے الہامات سے ثابت کردیا کہ سب کام خدا کے اختیاار میں ہیں وہ جب چاہتا ہے کسی کو لمبی عمردیتا ہے اور جب چاہتا ہے اس کو وفات دیتا ہے۔اور اس طرح اس نے حضرت اقدس ؑکے الہامات کی سچائی کو بھی ثابت کر دیا۔ہاں اگر الوصیت میں موت کی پیشگوئی نہ ہوتی تو لوگ کہتے کہ وہ وقت مقررہ سے پہلے فوت ہوئے لیکن جب الوصیت سے صاف ثابت ہوتاہے کہ اب وفات قریب ہے۔تو خود بخود پہلی پیشگوئی چونتیس برس تک اپنا جلال دکھاکر منسوخ ہوگئی اور موت کی پیشگوئی کا انتظار شروع ہوا۔پس اگر یہ نہ بھی مانا جائے کہ حضرت کی عمر ۷۴ سال کی ہوئی اور اسّی سال کے قریب ہوئی جیسا کہ میں پہلے ثابت کر آیا ہوں۔تو پھر بھی آپ پر کوئی الزام نہیں آتا کیونکہ جب موت کے الہام ہو گئے تو معلوم ہوا کہ اب کچھ سال عمر باقی بھی ہے تو وہ بھی منسوخ ہو گئی۔غرضیکہ مذکورہ بالا دونوں صورتوں میں سے کسی میں بھی مخالف یا معترض کا ہاتھ نہیں پڑ سکتا کیونکہ اول تو میں نے ثابت کر دیا ہے کہ آپ پیشگوئی کے مطابق عمرپا کر فوت ہوئے اور اگربفرض محال نہ بھی ہوئے تو الوصیت کے بعد وہ پہلی پیشگوئی منسوخ سمجھی جائے گی کیونکہ وہ اگر عمرکی زیادتی ظاہر کرتی تھی تو یہ عمر کا انقطاع ظاہر کرتی تھی پس ہر طرح سے خدا کا کلام سچا ثابت ہوتا ہے۔اور مخالف معترض کا کوئی حق نہیں کہ وہ بغیر علم کے تن تالش تك به علم کے حکم کے برخلاف خواہ مخواہ اعتراض کرے ورنہ یاد رہے کہ اس قسم کے اعتراضوں سے کوئی نبی نہ بچے گا۔دوسری بات جس کا میں جواب دینا چاہتا ہوں۔وہ نکاح والی پیشگوئی ہے۔جس کی نسبت مخالف اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت صاحب فوت ہوگئے ہیں اور وہ پوری نہیں ہوئی۔سویا درہے۔