انوارالعلوم (جلد 1) — Page 140
انوار العلوم جلد | ان کے دعوئی میں شک لاویں۔ ۱۴۰ صادقوں کی روشنی اسکا جواب یہ ہے کہ حضرت اقدس نے کہیں نہیں لکھا کہ میری عمر ضرور ہی اسی برس ہو گی ۔ بلکہ اس بات کو مخالفین بھی مانتے ہیں کہ آپ کا الہام تھا کہ آپ کی عمر اسی کے قریب ہوگی چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اور آپ اسی برس کے قریب عمر پا کر فوت ہوئے۔ چنانچہ اس کے ثبوت میں میں خود حضرت اقدس کی کتابوں میں سے اور مخالفین سلسلہ کے مضامین میں سے حوالہ دوں گا اور انشاء اللہ ثابت کروں گا کہ حضرت اقدس کی عمر اسی کے قریب تھی۔ یعنی جب حضرت اقدس نے وفات پائی تو آپ اس وقت ۷۴ سال کے تھے۔ چنانچہ اول حوالہ جو میں خود آپ کے مضمون میں سے پیش کرتا ہوں یہ ہے کہ ڈوئی کے مقابلہ میں جب آپ نے اشتہار دیا ہے اور اس کو مقابلہ کے لئے بلایا ہے تو اس وقت آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ ”میں ایک آدمی ہوں جو پیرانہ سالی تک پہنچ چکا ہوں۔ میری عمر غالبا چھیاسٹھ سال سے بھی کچھ زیادہ ہے ؟ دیکھو ریویو آف ریلیز ستمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۳۴۶) پس اب ہر ایک شخص غور کر سکتا ہے کہ جب ستمبر ۱۹۰۲ء کو آ۔ آپ کی عمر ۲۶ سال سے بھی کچھ زیادہ ہے تو ۱۹۰۸ء میں مئی کے مہینہ میں جب آپ نے وفات پائی تو آپ کی عمر شمسی حساب کے لحاظ سے کم سے کم ۷۲ سال کی ہوتی ہے کیونکہ اگر پورے ۱۶ سال کی عمر اس وقت شمار کریں تو مئی تک آپ کی عمر کے اے سال اور نو ماہ بنتے ہیں لیکن چونکہ آپ نے لکھا ہے کہ اس وقت ۲۶ سال سے بھی زیادہ ہے اس لئے تین ماہ اس میں اور ماہ اس میں اور شامل کر کے پورے ۷۲ سال ہوئے ۔ اور قمری حساب کی رو سے یہی ۷۲ سال ۷۴ سال اور تین ماہ بنتے ہیں پس جو عمر آپ نے ڈوئی کے اشتہار میں لکھی ہے اگر غور سے کوئی دشمن اس پر نظر ڈالے تو صاف سمجھ سکتا ہے کہ آپ کی پیشگوئی کسی زور و شور سے پوری ہوئی۔ اور اس کا ایک ایک لفظ صادق ثابت ہوا۔ آپ نے اس پیشگوئی کو شائع کیا ہے اور اس وقت گویا کہ قریباً تمیں سال عمر کے باقی تھے ۔ جب یہ الہام ہوا۔ پس کیا کوئی کاذب انسان جو خدا سے کوئی تعلق نہ رکھتا ہو تمیں سال پہلے اپنی نسبت کہہ سکتا ہے کہ میں اس قدر سال اور زندہ رہوں گا۔ انسان کو اپنی زندگی کا ایک دم کے لئے بھی اعتبار نہیں ۔ پھر ایک شخص کا یہ کہنا کہ میں تمیں سال اور زندہ رہوں گا اور میری عمر قریباً اسی سال کی ہو گی کوئی چھوٹی بات نہیں بلکہ ایک نشان ہے جو پورے زور سے پورا ہوا۔ مگر مبارک وہ جو آنکھیں رکھتا ہے اور خوش قسمت ہے وہ جو نیکی کی راہ کو دیکھے اور قبول کرے۔ پھر دو سری دلیل یہ ہے کہ حضرت صاحب کی کتاب نصرة الحق یا حصہ پنجم براہین میں درج ہے