انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 138

انوار العلوم جلد 1 ۱۳۸ صادقوں کی روشنی لکھ چکا ہے کہ اس کا قبول کرنا بیوقوفوں کا کام ہے۔ تو اب اس کو مان کر بیوقوف کیوں بنتا ہے اور اپنے کہے کے برخلاف کیوں چلتا ہے ؟ اور جب اس نے خود اس کو نامنظور کیا تو اب اس دعا کے مطابق فیصلہ کا کیوں منتظر ہے ؟ اور دوسرے یہ کہ نہ صرف اس نے شروع میں ہی اس دعا کے فیصلہ سے انکار کیا بلکہ آخر سال میں بھی حضرت کی وفات سے چند دن پہلے اس بات کا انکار کیا اور لکھا کہ اب چونکہ سال گزر گیا ہے اس لئے مباہلہ کی میعاد ختم ہو گئی اور اب کوئی اثر مباہلہ کا نہیں ہو سکتا۔ پس جب یہ خود ہی حضرت کی وفات سے پہلے اس میعاد کو ختم کر چکا ہے تو اب اگر اس دعا کو اس کے کہنے کے مطابق مباہلہ بھی مان لیا جائے تو بھی اس مباہلہ کے مطابق حضرت اقدس کی وفات نہیں ہو سکتی کیونکہ خود شاء اللہ اس میعاد کو ختم کر چکا ہے۔ اور تیسری بات جو میں نے لکھی ہے یہ ہے کہ نبی کے آنے کی اصل غرض اصلاح ہوتی ہے نہ کہ انذاری پیشگوئیاں۔ پس اس وجہ سے انذاری پیشگوئیوں میں التواء بھی ہو جاتا ہے اور بعض دفعہ وہ منسوخ بھی ہو جاتی ہیں کیونکہ وہ محض اصلاح کے لئے ہوتی ہیں۔ جب اصلاح کا اور طریقہ نکل آئے یا مخالف پر اتمام حجت کرنے کی کوئی اور صورت پیدا ہو جائے تو وہ بدل جاتی ہیں۔ چنانچہ اس طرح حضرت اقدس کی ثناء اللہ کی نسبت دعایا پیشگوئی انذاری رنگ میں تھی اور اصلاح کے لئے تھی جب اس نے اور اس کے ساتھیوں نے کہا کہ ہمارے لئے جھوٹے کا سچے کی زندگی میں مرجانا کوئی اتمام حجت نہیں بلکہ قرآن شریف سے اس کے بر خلاف جھوٹے کا ڈھیل دیا جانا ثابت ہوتا ہے اور اس کے مطابق مسیلمہ کذاب آنحضرت کے فوت ہونے کے بعد ہلاک ہوا تو اب اصلاح کی یہ صورت تھی کہ شاء اللہ کو ڈھیل دی جائے تاکہ اس کے ساتھیوں پر اور اس پر اتمام حجت ہو اور انہیں کے فیصلہ کے مطابق ان کو ملزم کیا جائے ۔ چنانچہ خدا تعالیٰ نے ایسا ہی کیا اور ثناء اللہ اپنے ہی قول کے مطابق مفسد دغا باز اور جھوٹا ثابت ہوا اور اخیر میں میں نے لکھا ہے کہ یہ شخص لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے اس دعا کو مباہلہ قرار دیتا ہے جو حضرت اقدس نے اس کے لئے کی۔ مگر اس سے پہلے خود لکھ چکا ہے کہ مباہلہ طرفین کے مقابلہ پر قسمیں کھانے کو کہتے ہیں اور اس کے بر خلاف کہنے والا جھوٹا ہے ۔ پس یہ خود ہی جھوٹا ثابت ہوا اور عوام کو چاہئے کہ اس کے مکر اور فریب سے بچیں۔