انوارالعلوم (جلد 1) — Page 135
اتناغم ہوا کہ گویا اس غم میں اپنی جان کو ہی ہلاک کر دیتے اور ہر وقت اس فکر میں رہتے تھے تو آج اگر ان کے غلام اور تابع کی بات کو سن کر اور اتمام حجت کے بعد یہ لوگ نہ مانیں تو کیا تعجب ہے کیونکہ سنت اللہ ہی ہے کہ ایک تونبی کے وقت قدرت دکھائی جاتی ہے۔اور ایک اس کے بعد جس سے وہ سلسلہ جو قائم ہو تاہے تمام دنیا میں پھیل جاتا ہے پس اب وقت آگیاہے کہ سلسلہ احمدیہ خدا تعالیٰ کی مقرر کردہ سنت کے مطابق ترقی کرے (انشاء اللہ) غرض کہ ثناء اللہ اور اس کے ساتھیوں پر خودانہیں کے قول کے مطابق حجت قائم ہو گئی ہے اور یہ میں خوب اچھی طرح ثابت کر آیا ہوں کہ اگر ایسانہ ہوتا اور وہ حضرت اقدسؑ کی زندگی میں ہی مر جاتا تو آئندہ لوگ کہتے کہ اصل فیصلہ کا طریق یہی ہے کہ جھوٹے کو لمبی عمر ملتی ہے اور پہلے لوگوں نے مباہلہ میں غلطی کی۔اور ثناء اللہ نے چونکہ ٹھیک راہ اختیار کی تھی اس لئے حضرت اقدسؑ کو ڈھیل دی گئی۔اور اس طرح وہ کذّاب ثابت ہوئے پس جب خدا تعالیٰ کی غیرت نے برداشت نہ کیا کہ اس کے نبی پر کوئی الزام رہے اور اس نے اپنے فرستادہ کے ساتھ اپنے و عدہ کے مطابق سلوک کیا۔اور اس کو وفات دے کراس الہام کو پورا کیا کہ لا نبقی لک من المخزیات ذکرا۔چنانچہ جب تک لوگوں نے جھوٹے کے لئے سچے کی زندگی میں مر جانا معیار مقرر کیا۔تب تک تو وہ خود ہلاک ہوتے رہے اور حضرت مسیح موعودؑ کی سچائی کو اپنی موت سے ثابت کرتے رہے۔اور جب معیار صداقت یہ مقرر ہوا کہ سچاجھوٹے کے سامنے ہی فوت ہو جاتا ہے۔جیسے نبی کریم ﷺ مسیلمہ کذاب کے سامنے اور جھو ٹا میں لمبی عمرپا تا ہے تو خدا تعالیٰ نے اس معیار کے مطابق ثناء اللہ کو ڈھیل دے کر مسیلمہ کذاب سے مشابہت دی اور حضرت اقدسؑ کی سچائی کو ثابت کیا۔پس جبکہ اس کے مقرر کئے ہوئے معیار کے مطابق اس کو ڈھیل دی گئی ہے اور آدمؑ اول کی طرح آدم ثانی کے ایک مخالف پر بھی الى يوم الوقت المعلوم (اجر: ۳۹) کا فتوی جاری ہوا ہے تو پھر ثناء اللہ کیوں بڑھ بڑھ کر باتیں بناتا ہے۔خود اس کی تحریر اور اس کے دوستوں کی تحریر اس کو ملزم کر رہی ہے اور یہ اپنے منہ سے جھوٹا ثابت ہوا ہے۔توپھر یہ شورو شر اور دعاوی باطلہ اگر محض بے شرمی اور بے حیائی کی دلیل نہیں تو اور کیا ہے۔مگر اسےیاد رکھنا چاہئے کہ آدمؑ اول کے مخالف کو تو لمبی ڈھیل دی گئی تھی کیونکہ اس نے لمبی ڈھیل کی ہی خواہش کی تھی لیکن چونکہ اس نے صرف اس قدر عمر چاہی تھی کہ سچے کے فوت ہونے کے بعد بھی زندہ رہے اور اپنی دروغ بیانی پر مہرلگا جائے اور آدم ثانی کے وقت شیطان کا مارا جانا بھی ایک فیصلہ شدہ امر ہے اس لئے جلد ہی اس کا فیصلہ ہو جائے گا۔اور اس طرح کہ دنیا مان لے گی