انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 135

انوار العلوم جلد ! ۱۳۵ صادقوں کی روشنی اتناغم ہوا کہ گویا اس غم میں اپنی جان کو ہی ہلاک کر دیتے اور ہر وقت اسی فکر میں رہتے تھے تو آج اگر ان کے غلام اور تابع کی بات کو سن کر اور اتمام حجت کے بعد یہ لوگ نہ مانیں تو کیا تعجب ہے کیونکہ سنت اللہ یہی ہے کہ ایک تو نبی کے وقت قدرت دکھائی جاتی ہے۔ اور ایک اس کے بعد جس سے وہ سلسلہ جو قائم ہوتا ہے تمام دنیا میں پھیل جاتا ہے پس اب وقت آگیا ہے کہ سلسلہ احمد یہ خدا تعالیٰ کی مقرر کردہ سنت کے مطابق ترقی کرے (انشاء اللہ ) غرض کہ شاء اللہ اور اس کے ساتھیوں پر خود انہیں کے قول کے مطابق حجت قائم ہو گئی ہے اور یہ میں خوب اچھی طرح ثابت کر آیا ہوں کہ اگر ایسا نہ ہوتا اور وہ حضرت اقدس کی زندگی میں ہی مر جاتا تو آئندہ لوگ کہتے کہ ام اصل فیصلہ کا طریق یہی ہے کہ جھوٹے کو عمر لمبی ملتی ہے اور پہلے لوگوں نے مباہلہ میں غلطی کی۔ اور شاء اللہ نے چونکہ ٹھیک راہ اختیار کی تھی اس لئے حضرت اقدس کو ڈھیل دی گئی ۔ اور اس طرح وہ کذاب ثابت ہوئے پس جب خدا تعالیٰ کی غیرت نے برداشت نہ کیا کہ اس کے نبی پر کوئی الزام رہے اور اس نے اپنے فرستادہ کے ساتھ اپنے وعدہ کے مطابق سلوک کیا۔ اور اس کو وفات دے کر اس الہام کو پورا کیا کہ لا تُبْقِى لَكَ مِنَ الْمُخْزِيَاتِ ذِكْرًا - چنانچہ جب تک لوگوں نے جھوٹے کے لئے بچے کی زندگی میں مرجانا معیار مقرر کیا۔ تب تک تو وہ خود ہلاک ہوتے رہے اور حضرت مسیح موعود K کی سچائی کو اپنی موت سے ثابت کرتے رہے ۔ اور جب معیار صداقت یہ مقرر ہوا کہ سچا جھوٹے کے سامنے ہی فوت ہو جاتا ہے۔ جیسے نبی کریم اللہ مسیلمہ کذاب کے سامنے اور جھوٹا لمبی عمر پاتا ہے تو خدا تعالیٰ نے اس معیار کے مطابق ثناء اللہ کو ڈھیل دے کر مسیلمہ کذاب سے مشابہت دی اور حضرت اقدس کی سچائی کو ثابت کیا۔ پس جبکہ اسی کے مقرر کئے ہوئے معیار کے مطابق اس کو ڈھیل دی گئی ہے اور آدم اول کی طرح آدم ثانی کے ایک مخالف پر بھی اِلى يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوم (الجر (۳۹) کا فتوی جاری ہوا ہے تو پھر شاء اللہ کیوں بڑھ بڑھ کر باتیں بناتا ہے۔ خود اس کی تحریر اور اس کے دوستوں کی تحریر اس کو ملزم کر رہی ہے اور یہ اپنے منہ سے جھوٹا ثابت ہوا ہے۔ تو پھر یہ شور و شهر اور دعاوی باطله اگر محض بے شرمی اور بے حیائی کی دلیل نہیں تو اور کیا ہے۔ مگر اسے یاد رکھنا چاہیئے کہ آدم اول کے مخالف کو تو لمبی ڈھیل دی گئی تھی کیونکہ اس نے لمبی ڈھیل کی ہی خواہش کی تھی لیکن چونکہ اس نے صرف اس قدر عمر چاہی تھی کہ بچے کے فوت ہونے کے بعد بھی زندہ رہے اور اپنی دروغ بیانی پر مہر لگا جائے اور آدم ثانی کے وقت شیطان کا مارا جانا بھی ایک فیصلہ شدہ امر ہے اس لئے جلد ہی اس کا فیصلہ ہو جائے گا۔ اور اس طرح کہ دنیا مان لے گی کہ یہ