انوارالعلوم (جلد 1) — Page 136
کہ یہ معمولی موت نہیں بلکہ اس موت نے ایک نبی کی سچائی پرشہادت دی ہے، اور یہ بات میں نہیں کہتا بلکہ خدائے زمین و آسمان کہتا ہے اور اس کی بات ٹلا نہیں کرتی پس وہ جو زندہ رہیں گے دیکھ لیں گے۔کہ جس طرح ثناء اللہ کے زندہ رہنے نے اس کے کذب پر مہر لگائی ہے۔ویسا ہی اس کی موت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سچائی کی ایک دلیل ہو گی۔انشاء اللہ العزیز۔ایک اور اعتراض کیا جا تا ہے کہ جس کا جواب دینا بھی ضروری سمجھتا ہوں اور وہ یہ کہ جب حضرت اقدس ؑکا الہام تھا کہ تیری دعا سنی گئی تو پھر آپ پہلے کیوں فوت ہوئے۔سو یاد رہے کہ اس کا جواب میں اوپر دے آیا ہوں کہ کیا نبی کی بعثت کی اصل غرض بعض اشخاص کی وفات با بعض جگہوں کی تباہی نہیں ہوتی بلکہ اصلاح خلق اصل غرض ہوتی ہے پس وعید کی پیشگوئیاں اگر ٹل جاتی ہیں تو صرف اس وجہ سے کہ اصلاح کی کچھ اور صورت پیدا ہو جاتی ہے۔جب حضرت اقدسؑ نے ثناء اللہ کی نسبت دعا کی اور خدا تعالیٰ نے آپ کو اس کی ہلاکت کی خبردی تو و دایک و عید کی پیشگوئی ہوگئی۔پس چو نکہ و عید کی پیشگوئیوں کی بھی اصل غرض اصلاح ہوتی ہے۔اس لئے وہ اسی رنگ میں پوری ہوئی جس طرح اتمام حجت ہو سکتی تھی۔کیونکہ اگر اس کے بر خلاف ثناء اللہ حضرت کی زندگی میں مرجاتا تو اس کے ساتھی کہتے کہ چونکہ یہ فوت ہو گیا اور حضرت اقدسؑ زندہ رہے اس لئے وہ ہمارے اور ہمارے استاد کے قول کے مطابق اور فیصلہ کی شرط کے مطابق نعوذ باللہ مسیلمہ کذّاب کی مانند ثابت ہوئے۔پس خدا تعالیٰ نے جو کچھ وعدہ دیا تھاوہ یہی تھا کہ سچے اور جھوٹے میں فرق کر دکھائے گا۔اور یہی انذاری پیشگوئی کی غرض ہوتی ہے چنانچہ اس کے وعدہ کے مطابق اس کو ملزم کرنے کے لئے خداوند تعالیٰٰ نے اسی کے قول کے مطابق اس کو ڈھیل دے کر مسیلمہ کذاب کا ہم رتبہ ثابت کیا۔اور دوسرے یہ کہ کیا حضرت اقدسؑ کی وفات سے جو اس کی نسبت الہام تھے وہ بھی منسوخ ہو گئے ؟ نہیں وہ تو جب تک یہ مرتا نہیں اس کے ساتھ ہیں اور ان کے عذاب سے یہ اسی وقت بچ سکتا ہے جب توبہ کرے اور رجوع لائے - ورنہ یاد رہے کہ خدا کا کلام بھی نہیں ملتا اور بغیر پورا ہونے نہیں رہتا۔پس حضرت صاحب کی دعا پر بھی کوئی اعتراض نہیں آسکتا کیونکہ وہ ضرور قبول ہوئی اور دعا کی بجائے ایک انذاری پیشگوئی کی صورت میں بدل گئی۔اور جب اس نے جھوٹے کے لئے ڈھیل ملنے کی شرط مقرر کی تو اس کو ڈھیل دی گئی اور اپنے وقت پر وہ پیشگوئی بھی اپنارنگ دکھلائے گی۔۔