انوارالعلوم (جلد 1) — Page 113
انوار العلوم جلد 1 ۱۱۳ صادقوں کی برد شنی کے بعد وہاں پہنچے تو کام نہ ہوا۔ اس بات سے حضرت عمر جیسے بزرگ کو ابتلاء کا سامنا ہوا۔ پس غور کا مقام ہے کہ جب اجتہادی غلطی کا ہو جانا کسی نبی کی شان پر کوئی دھبہ نہیں لگاتا۔ اور اس سے اس کی سچائی پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا تو حضرت مسیح موعود جو پچھلے انبیاء کی سنت پر آئے ہیں اگر کوئی اجتہادی غلطی کر بیٹھیں تو ان پر کیا الزام آسکتا ہے اصل تو الہامات کو دیکھنا چاہئے کہ ان کے کیا معنی ہیں۔ اور پھر یہ بات بھی ہوتی ہے کہ ایک نبی سے ایک وعدہ ہوتا ہے اور وہ اس کے جانشین یا اس کی اولاد کے ہاتھوں سے پورا ہوتا ہے۔ پس با وجود ان تمام دلائل کے جو میں اوپر بیان کر آیا ہوں یہ مان بھی لیا جائے کہ ۴ / اگست کی پیشگوئی کے باوجو د بھی تبصرہ والا اشتہار قائم رہا اور منسوخ نہیں ہوا تو بھی کوئی الزام نہیں آتا۔ اور کسی بات سے حضرت اقدس کی تکذیب اور عبدالحکیم کی تصدیق نہیں ہوتی۔ کیونکہ جو معنی کئے گئے ہیں وہ خدا کی طرف سے تقسیم نہیں بلکہ اپنا اجتہاد ہے۔ پس اگر اس کے مطابق واقعہ نہ ہو تو علم کے الہام پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کی سچائی اور بھی ظاہر ہوتی ہے کہ اس نے کوئی منصوبہ بنا کر الہام پیش نہیں کئے تھے بلکہ خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے وہ الہامات تھے۔ اب ناظرین غور کر کے دیکھیں کہ عبدالحکیم کے ہاتھوں میں رہ کیا جاتا ہے جس پر اس کو ناز ہے۔ اس کے لئے اشتہار ” خدا سچے کا حامی ہو " اور تبصرہ میں اور حقیقۃ الوحی میں یہ الہامات درج ہیں کہ یہ ہلاک ہو گا اور اس طرح ذلت کے عذاب سے مرے گا اور اس دنیا سے اٹھایا جائے گا کہ دنیا اس بات کو جان لے گی کہ یہ محض افتراء پر تھا۔ اور اس کے الہاموں میں رحمانیت کا کوئی حصہ نہیں تھا اور وہ القائے شیطانی تھے۔ اور اس کے بعد کسی کو جرات نہ ہو سکے گی کہ خدا کے برگزیدہ کے سامنے اس کو پیش کر سکے اور اس کو کوئی نصرت و مدد الہی نہ ملے گی اور مقبولیت سے محروم رہے گا۔ چنانچہ ان الهاموں کی مدت ابھی گزر نہیں گئی اور ہم کو ان کی سچائی میں کوئی کلام نہیں ضرور ہے کہ خدا کا کلام پورا ہو اور وہ جو جھوٹا ہے عذاب الہی میں گرفتار ہو اور ذلت اس کے حصہ میں آئے۔ پس باوجود اس کے کہ تبصرہ میں حضرت صاحب نے محض اپنا اجتہاد لکھا ہے کہ یہ شخص میری زندگی میں ہلاک ہو جائے گا۔ اور الہاموں میں قطعاً اس کا ذکر نہیں بلکہ صرف اتنا ذکر ہے کہ عبد الحکیم کے مکر ضائع کئے جائیں گے اور وہ ذلت سے ہلاک ہو گا۔ عبدالحکیم خاں کا اس بات کو اپنی تصدیق کے لئے پیش کرنا محض شرارت ہے ۔ کیونکہ اس کا الہام پورا نہیں ہوا۔ اور یہ اس کی طرف بالکل توجہ نہیں کرتا مگر حضرت صاحب کے اجتہاد کی غلطی کو اپنی سچائی کی دلیل قرار دیتا ہے۔ یہ کیسے