انوارالعلوم (جلد 1) — Page 112
۔۔ألم يجعل كيدهم في تضليل۔تیرے دشمنوں کا اخزاء وافناء تیرے ہی ہاتھ سے مقدر تھا۔چنانچہ ان الہامات سے کوئی بات ثابت نہیں ہوتی جس سے یہ معلوم ہو کہ عبدالحکیم حضرت اقدسؑ کی زندگی میں ہلاک ہو گا بلکہ یہی معلوم ہو تا ہے کہ خداسچے اور جھوٹے میں فرق کر کے دکھلاوے گا۔اور وہ اصحاب فیل کی طرح ذلیل ہو کر ہلاک ہو گا اور اس کے تمام مکر و فریب غارت ہو جائیں گے۔اور وہ بوجہ مخالفت حضرت اقدس ؑکے ہلاک ہو گا۔اب ان الہامات کو دیکھ کر ہر ایک اہل عقل دیکھ سکتا ہے کہ خداوند تعالیٰٰ نے کس طرح گھیر کر اس سے ۴- اگست والی پیشگوئی شائع کروائی اور کس طرح اس کے مکر کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور تمام دنیا کی نظروں میں اس کو ذلیل کیا اور ان الہامات کے جومعنی حضرت اقدس ؑنے کئے ہیں کہ وہ میرے سامنے ہلاک ہو گا ایک اجتہادی غلطی تھی اوراجتہادی غلطی ہر نبی سے ہوتی رہتی ہے۔چنانچہ اس کی بہت سی نظیریں قرآن شریف اور احادیث صحیحہ میں موجود ہیں مثلا حضرت نوح ؑکے قصّہ کوہی دیکھو کہ ان سے وعدہ تھا کہ تیرے اہل بچائےجائیں گے اور جب طوفان میں اپنے بیٹے کو غرق ہوتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے خداوند تعالیٰ سےکہا رب ان ابنی من اھلی (ہود:46 )اے خد امیرابیٹابھی تو میرے اہل سے ہے یہ کیوں غرق ہونے لگا۔تو اس پر خدا نے جواب دیا انه ليس من اھلک( ہود47) یعنی وہ تیرے اہل سے نہیں اور فلا تسئلنی ماليس لك به علم و تسک (ہود 47») یعنی ایسی بات مجھ سے مت پوچھو جس کا تجھ کو علم نہیں۔پھر حضرت یونس علیہ السلام کو بھی اجتہادی غلطی گئی۔اور جب ان کی پیشگوئی کے مطابق ان کی قوم ہلاک نہ ہوئی تو ایسے گھبرائے کہ خدا تعالیٰ اپنے کلام میں فرماتا ہے کہ اگر خدا کا فضل نہ ہوتا تووہ ملزم کر کے پھینک دیئے جاتے۔چنانچہ قرآن شریف میں آتا ہے۔لولا ان تدرکہ نعمۃ من ربہ لنبذ بالعراءوھومذموم (القلم:۵۰) پھر حضرت موسی علیہ السلام کو اجتہادی غلطی لگی اور انہوں نے سمجھا کہ میں خود بنی اسرائیل کوکنعان میں پہنچاؤں گا۔حالانکہ وہ راستے میں ہی فوت ہو گئے۔اور ان کے ساتھی بھی تقریبا تمام راستہ میں ہی فوت ہوئے۔اور ان کے ایک خلیفہ نے بنی اسرائیل کو منزل مقصود تک پہنچایا۔پھر حضرت عیسی علیہ السلام کو اجتہادی غلطی لگی اور انہوں نے سمجھا کہ میرے حواریوں کو دنیاوی بادشاہت ملے گی اور انہوں نے ان کو حکم دیا کہ کپڑے بیچ کر تلوار یں خرید و - حالانکہ دنیاوی بادشاہت تو الگ رہی۔ان کو چین سے بیٹھنا تک نصیب نہ ہوا۔اور پھر آخر میں ہمارے سردار اور ہادی حضرت محمدمصطفیٰﷺ کو اجتہادی غلطی لگی اور آپ ایک کشف کی بناء پر حج کو چل دیئے اور بڑی تکلیفوں