انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 111 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 111

رسول کو پکڑنا چاہا تھا اسی راہ سے اس کو پکڑ لیا۔یعنی حضرت صاحب کو اس کی مقرر کردہ تاریخ پروفات نہ دی۔اور ۲۹ مئی کو دی جو تاریخ خود آپ کے الہامات سے ثابت ہوتی تھی اور اس طرح خدا کاو ہ کلام کہ ”جھوٹے اور سچے میں فرق کر کے دکھایا جائے گا‘‘ پورا ہوا۔اور عبدالحکیم کے منہ پرکذاب کا انیابد نما داغ لگا جو قیامت تک مٹ نہیں سکتا۔اور یہ بات جو میں نے لکھی ہے کہ جب عبدا حکیم نے چودہ ماہ والی پیشگو ئی کو منسوخ کر دیا تو خدا نے بھی اپنے وعید کو دوسرے رنگ میں بدل دیا ہے ثبوت نہیں بلکہ قرآن شریف سے بھی ثابت ہوتی ہے، چنانچہ جن لوگوں کے لئے فرمایاتھا کہ لھم فی الدنیا خزی ولھم فی الأخرةعذاب عظیم۔ان میں سے بھی بہت سے لوگ آخر کار ایمان لائے اور بڑے بڑے انعام و اکرام کے مستحق ٹھہرے پس اس جگہ بھی خدا تعالیٰ نےاپنی سنت قدیمہ کے مطابق جس کی نسبت ولن تجدلسنت اللہ تبدیلاکا حکم آیا ہے عمل کیا۔اورجب عبدا لحکیم خاں نے اپنی پیشگوئی کو چھوڑ کر ایک اور پیشگوئی پر اپنی سچائی کامدار رکھا تو خداوند تعالیٰ نے بھی اپنی بے پایاں قد رتوں سے چاہا کہ اس کو اپنی راہ سے ہلاک کرے۔چنانچہ اس نے اس کی پیشگوئی کو بالکل غلط ثابت کر دیا۔اور اس نے بتایا تھا کہ حضرت اقدس علیہ السلام۴ اگست کوفوت ہوں گے مگر ایسا نہ ہوا۔چنانچہ یہ جھو ٹا ٹھہرا۔اور تبصرہ میں بتایا ہو اعذاب اذا فات الشرط فات المشروط کے مطابق اس پر سے ٹل گیا۔کیونکہ اس کو جھوٹا ثابت کرنا ضروری تھا۔سوخدا نے ثابت کردیا۔پانچویں بات جو عبدالحکیم کے تمام د عادی کو بالکل تو ڑ دیتی ہے ، اوراس کے جھوٹ کا قلع قمع کردیتی ہے ایسی صاف ہے کہ خدا کے فضل سے اس کے بعد اس شخص کا ہاتھ کہیں پڑہی نہیں سکتا اورخواہ کتنے ہی وانت پیسے اور پیشانی رگڑے ممکن ہی نہیں کہ اپنے مطلب کے مطابق کوئی بات نکال سکے۔چنانچہ اگر غور سے دیکھا جائے تو حضرت اقدس علیہ السلام نے کبھی کوئی الہام شائع نہیں کیاجس میں یہ آیا ہو کہ عبد الحکیم تیری زندگی میں ہلاک ہو جائے گا۔زیادہ سے زیادہ مندرجہ ذیل چندالہامات ہیں جن سے یہ اپنے مطلب کی بات نکالتا ہے۔مگر میں یہ ثابت کرتا ہوں کہ ہرگز ان سےکہیں یہ ثابت نہیں ہو ا کہ عبدالحکیم آپ کی زندگی میں ہلاک ہو گا۔اور پھر یہ بات بھی قابل غورہے کہ وہ الہامات اس وقت کے ہیں جبکہ اس نے چودہ ماہ والی پیش گوئی کی تھی اور اس پیشگوئی کےبدلنے پر ان الہامات کی سزا بھی اور رنگ میں بدل گئی۔بہرحال و و الہامات یہ ہیں رب فرق بین صادق و كاذب انت تری کل مصلح و صادق۔ألم تر کیف فعل ربک با صحاب الفيل