انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 110 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 110

میری عمر بڑھادی۔چنانچہ اگر وہ چودہ ماہ کی میعاد عبد الحکیم قائم رکھتا تو اس وقت اس کا یہ اعتراض ہوسکتا تھا کہ میری بتائی ہوئی میعار کے اند ر فوت ہو گئے ہیں اس لئے میں سچاہوں۔مگر جب اس نے خوداس پیشگوئی کو رد کر دیا اور لکھ دیا کہ بجائے چو دہ ماه والی پیشگوئی کے اب ۴/ اگست کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔تو تبصرہ میں جو کچھ لکھا گیا تھا اس کے پورے ہونے کی ضرورت نہیں رہی۔کیونکہ وہ اشتہارتواس غرض کے لئے لکھا گیا تھا کہ جھوٹے اور سچے میں فرق ثابت کیا جائے اور دنیارپرظاہر ہو جائےکہ کون جھوٹا ہے اور کون سچا۔پس جب اس نے۴ اگست تاریخ وفات مقرر کر دی۔تو اب سچےاور جھوٹے میں فرق اس طرح ہو سکتا تھا کہ ایک دوسرے کی پیشگوئی کے مطابق ہلاک ہو جا تا۔اوراس طرح اپنے آپ کو جھوٹا ثابت کر جاتا۔پس خدا تعالیٰ نے مرزا صاحب کو۲۶/ مئی کو وفات دےکر ثابت کر دیا کہ عبدالحکیم جھوٹا ہے۔چنانچہ تبصرہ کے الفاظ بھی یہی ہیں کہ جو دشمن تیری وفات کی پیشگوئی کرتے ہیں ان کو میں جھوٹا ثابت کروں گا پس صاف ثابت ہو اکہ خدا تعالیٰ کا منشا اس جگہ دشمن کو جھوٹاثابت کرنے کا تھانہ کچھ اور۔چنانچہ جب اس نے اپنی پیشگوئی کو خود ہی رد کردیا اور لکھاکہ اب ۴/ اگست کی تاریخ مقرر ہو گئی ہے تو خدا تعالیٰ نے اس کو اس طرح جھوٹا ثابت کیا کہ آپ کو ۲۶مئی کو وفات دے دی اور اس کی پیشگوئی ایک دیوانہ کی بڑکی طرح ردی گئی۔اور جھوٹےاور سچے میں خدا تعالیٰ نے فرق کر کے دکھلا دیا کہ سچوں کی باتیں سچی اور جھوٹوں کی جھوٹی ہوتی ہیں۔چنانچہ ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اگر ایک شخص کو کہا جائے کہ تو اس لئے ہلاک ہو جائے گا کہ تواسلام کو برا کہتا ہے اور گالیاں دیتا ہے۔اس کے بعد وہ شخص اسلام لے آئے اور بڑا متقی اور پرہیزگار ہو جائے تو وہ اس ہلاکت سے بچ جائے گا کیونکہ اس نے وہ بات چھوڑ دی۔اسی طرح یہاں بھی یہی معاملہ ہے۔عبدالحکیم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نسبت پیشگوئی کی کہ وہ چودہ مہینے کےاندر فوت ہو جائیں گے اور یہ میری سچائی کا نشان ہے۔اس پر حضرت مسیح موعودنے شائع کیا کہ ایسانہیں ہو گا بلکہ یہ خود میرے سامنے ہلاک ہو جائے گا۔اور یہ سب باتیں اس لئے ہیں کہ سچے اورجھوٹے میں فرق ہو جائے۔چنانچہ اگر یہ شخص اس پیشگوئی پر قائم رہتا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے ہلاک ہو جاتا اور وہ زندہ رہتے۔کیونکہ خدا تعالیٰ کو تو اپنے نبی اور رسول کی سچائی ظاہر کرنی منظور تھی نہ کہ کچھ اور۔مگر چونکہ بعد میں یہ اپنی بات سے پھر گیا اور اس نے چودہ ماہ والی پیشگوئی کو اپنی سچائی کا نشان قرار نہ دیا۔بلکہ لکھا کہ میری سچائی کا ثبوت یہ ہے کہ مرزا ۴/ اگست کوفوت ہو گا۔تو خدا تعالیٰ نے بھی اپنی پہلی بات کو منسوخ کر دیا اور جس راہ سے اس نے اس کے '۔