انوارالعلوم (جلد 1) — Page 109
کی قلعی کھول گئے اور آپ کے الہامات میں ۲۹/ مئی تاریخ مقرر ہوئی تھی۔سو اس تاریخ کو آپ نے وفات پائی اور یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے سچ اور جھوٹ کا فیصلہ ہے۔جو چاہے قبول کرے۔و رنہ یاد رہے کہ کسی شخص کا کفریا ارتداد خدا اور اس کے نبیوں کی شان میں کوئی فرق نہیں پیداکرتا۔بلکہ خود ان کے کافر اور ان سے ارتدارکرنے والوں کو کہنا پڑتا ہے یلیتنی کنت ترابایعنی کاش کہ میں مٹی ہو تا یا پیدا ہی نہ ہوتا۔پس اب بھی وقت ہے جو چشم بصیرت رکھتے ہیں وہ خداکے رسول کا اقرار کریں تا خدا ان کا مدد گار ہو۔ورنہ وہ دن آتے ہیں کہ انکار کرنے والے اپنےانکار کا مزہ چکھ لیں گے اور پھر سوائے پچھتانے کے اور کچھ نہ ہو سکے گا۔چوتھی بات جس کا میں جواب دینا چاہتا ہوں اور جس سے عبد الحکیم کادروغ ثابت ہوتا ہے یہ ہے کہ اس نے اپنے اشتہار اعلان الحق میں لکھا ہے کہ مرزا صاحب نے تبصرہ میں یہ الفاظ لکھے ہیں جو میری سچائی ظاہر کرتے ہیں کہ اپنے دشمن کو کہہ دے کہ خدا تجھ سے مؤاخذہ کرے گا۔میں تیری عمر کو بڑھاؤں گا۔یعنی دشمن جو کہتا ہے کہ جولائی ۱۹۰۷ء سے چودہ مہینے تک تیری عمر کے رہ گئے ہیں یا ایسا ہی جو دو سرے دشمن پیشگوئی کرتے ہیں۔ان سب کو میں جھوٹا کروں گا اور تیری عمر کو بڑھادوں گا تا معلوم ہو کہ میں خدا ہوں۔اور ہر ایک امر میرے اختیار میں ہے‘‘ اور پھر لکھا ہے۔کہ \"دنیامیں تیرا نام بلند کیا جائے گا۔اور نصرت و فتح تیرے شامل حال ہو گی۔اور دشمن جو تیری موت چاہتا ہے۔وہ خود تیری آنکھوں کے رو برو اصحاب فیل کی طرح نابود ہو جائے گا۔اور تباہ ہو جائے گا۔ان فقرات کے لکھنے سے یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ مرزا صاحب فوت ہو گئے اور میں زندہ ہوں اور یہ میری سچائی کا نشان ہے۔مگر اس ناد ان کو یہ سمجھ نہیں آئی کہ مرزا صاحب کی وفات سے اگر نعوذ باللہ ان کی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی تو اس سے اس کی سچائی کس طرح ثابت ہوئی۔فرض کرو کہ نعوذ باللہ مرزا صاحب کی تمام پیشگوئیاں غلط ہو گئیں اور ایک بھی سچی نہیں ہوئی تو بھی اس کی صداقت ثابت نہیں، اور اس کی سچائی تو اس بات سے ثابت ہوتی تھی کہ اس کی اپنی پیشگوئی بھی سچی نکلتی جب اس نے مرزا صاحب کی وفات کی تاریخ ۴/ اگست مقرر کی۔اور مرزا صاحب اپنی پیشگوئی کے مطابق ۲۶مئی کو فوت ہوئے۔تو یہ خود بخود جھوٹا اور کاذب ثابت ہو گیا۔اب اس کا یہ عذر کہ مرزا صاحب کی ایک پیشگوئی سچی نہیں نکلی۔تو اس سے اس کی سچائی ثابت ہوتی ہے محض ایک دھوکہ ہے۔اور پھردوسری بات یہ ہے کہ اشتہار تبصرہ اس وقت شائع کیا گیا ہے جب اس نے حضرت مرزا صاحب کی وفات کی میعار چودہ ماہ مقرر کی تھی۔اس وقت یہ لکھا گیا تھا کہ خدا نے دشمن کو جھوٹا کرنے کے لئے