انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 77

۔خبیر ہے اور تمام مخلو قات کا خالق ہے اور یہ تمام باتیں محبت کے تعلق کو بڑھانے والی ہیں چونکہ وہ خالق ہے اس لئے سب مخلوقات عالم فطرتاً اس کی طرف جھکتی ہے اوراس کے مخلوق ہونے کی وجہ سے ہر ایک ذره ذرہ اس کی حمد و ثناء میں لگا رہتا ہے اور چونکہ وہ رحمان و رحیم ہے اس لئے اس کے احسانات کو دیکھ کر کوئی ذی روح نہیں جو کہ سجدہ میں نہ گر جائے اوراس کے خیال میں ایسا محو نہ ہو جائے کہ گویا اپنے آپ کو بھول ہی جائے (بشرطیکہ طبع سلیم رکھتا ہو )اور چونکہ وہ علیم و خبیر ہے اس لئے ہر ایک محبت کرنے والا دل اس کی اس صفت سے تسلی پکڑ تاہے اور جانتا ہے کہ میری محبت فضول نہیں جائے گی اور چونکہ قادر ہے اس لئے کسی عمل کے ضائع جانے کا انسان کو اندیشہ نہیں ہو تااب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا اسلام نے دوسری قوموں اور مذہبوں کو اپنے میں داخل کرنے کا کوئی طریقہ رکھا ہے یا نہیں اور اس کے لئے پہلی ہی نظر ڈالنے پر ہم کومعلوم ہوتا ہے کہ اس وقت مسلمانوں میں اسی فیصدی سے زیادہ اور قوموں اور غیر مذاہب کےآدمی داخل ہیں جس سے صاف ظاہر ہو تا ہے کہ اسلام کا خدا بخیل نہیں بلکہ چونکہ وہ خالق ہے اس لئے اس نے اپنی تمام مخلوقات کی رہنمائی کے لئے دروازہ کھلا رکھا ہے اور خود نبی کریمﷺ نےاپنی زندگی میں چاروں طرف وکیل ہے کہ تمام دنیا میں اس بات کی تبلیغ ہو جائے کہ خدا کا وعده پورا ہو گیا اور وہ جو کہ ہدایت اور رشد کا طالب ہے فائدہ اٹھائے اور قرآن شریف میں بار بار آتا ہے کہ قرآن شریف تمام دنیا کی ہدایت کے لئے ہے پس یہ اعتراض جو کہ کئی اور مذاہب پر پڑتا ہےکہ ان میں ہدایت کا دروازہ بند رکھا گیا ہے اسلام پر قطعاً نہیں پڑتا اور اس وقت ہم ان مذاہب کوبھی جو کہ دوسرے اور لوگوں کو اپنے اندر شامل کرنا جائز رکھتے ہیں یہ پوچھتے ہیں کہ کیا ان کی کتابوں نے یہ دعوی کیا ہے کہ وہ تمام دنیا کے لئے ہیں؟ نہیں قطعاً نہیں۔کسی کتاب نے بھی ایسادعویٰ نہیں کیامگر قرآن شریف نے یہ دعویٰ کیا ہے بلکہ دوسری کتابوں میں یہ بھی نہیں کہ ہماری تعلیم ہر زمانہ کے لئے ہے اگر کوئی مدعی ہے تو ثابت کرے کہ کسی کتاب نے یہ دعویٰ کیا ہو کہ میں ہمیشہ کے لئےہوں اور مجھے منسوخ کرنے والی اور کتاب کوئی نہیں آئے گی۔اور میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ کوئی ایسا ثابت نہیں کر سکے گا اور صرف اسلام نے ہی یہ دعویٰ کیا ہے جیسا کہ ان دو آیتوں سے ظاہر ہوتاہے کہ إني رسول الله إليكم جميعا(الاعراف: ۱۵۹) اور الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی (المائده :۴) جن میں سے پہلے کی نسبت تو خدا تعالیٰ نبی کریمﷺکو فرماتا ہے کہ تو لوگوں کو یہ آیت سنا جس کے معنی ہیں کہ میں تمام دنیا کی طرف رسول ہو کر آیا ہوں اوردوسری میں خدا تعالیٰٰ فرماتا ہے کہ آج کے دن میں نے تمہارے لئے دین کامل کر