انوارالعلوم (جلد 1) — Page 78
دیا اور اپنی نعمت آخری درجہ تک پہنچادی لیکن اس دن کے بعد اور کوئی دین نہیں آوے گا اور اس دین کو کامل کرکے میں نے اپنی نعمت تم پر بدرجہ کمال پہنچادی ہے میں یہ وہ دعویٰ ہے جو کہ کسی اور کتاب نے نہیں کیا۔اور غیر مذاہب کا کوئی حق نہیں کہ اپنے مذاہب کو کامل اور ہر زماں و مکاں کے مناسب حال قرار دیں اور ان مذاہب کے پیرواں کا ایسا دعویٰ کرنا گویا کہ مدعی ست اور گواہ چست کی مثال اپنےپر صادق کرنا ہے اور وہ دعوی ہرگز ہرگز قابل پذیرائی نہیں ہو سکتا کیونکہ ان کا کوئی حق نہیں کہ برخلاف اپنی کتاب کے ایک نیا عقیدہ دنیا کے سامنے پیش کریں اور یہ خصوصیت جو کہ اسلام میں ہےاس کا جواب آریہ نہیں دے سکتے کیونکہ وید جس کو کہ وہ کامل کتاب مانتے ہیں ایسادعویٰ قطعاً نہیں کرتا اور نہ ان کی دیگر پرانی مذہبی کتابوں میں یہ دعوٰی ہے پس اسلام نے ہی یہ دعوی کیا ہے اوراب مخالفین کو چاہئے کہ ان پر ایمان لائیں کیونکہ کامل کتاب کی ضرورت تو انہوں نے بھی مانی ہےاور ان کی اپنی کتاب کامل نہیں اور ایک قرآن شریف نے بھی یہ دعوی کیا ہے اوراس کے بعد اورکوئی کتاب بھی نہیں آئی پس باوجود اس کے پھر اس سے انکار کرناضد اور ہٹ دھرمی نہیں تو اور کیاہے۔ہم یہ بھی ثابت کر چکے ہیں کہ تمام دو سرے مذاہب نے ایک مکمل مذہب کی ضرورت تسلیم کی ہے اور اسی لئے ان کے پیرو ان کو ضرورت پڑی کہ اپنے اپنے مذہب کو کامل کہیں مگر وہ مکمل نہیں ہو سکتے کیونکہ نہ تو خود ان کی کتابوں میں یہ دعویٰ ہے اور نہ ہی ان کی تعلیم کامل ہے پس ان حالات کے ہوتے ہوئے ہم اسلام کی نسبت ہی یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہی مذہب ہے جو اپنی تعلیم میں کامل ہےاور جو ہر زمانہ کے لئے مناسب ہے اور جو ایک طالب حق کو تسلی بخشتا ہے جیسا کہ ہمارے امام نےفرمایا ہے کہ آو لوگو کہ میں نورِخداپاؤ گے۔۔۔۔۔۔لو تمہیں طور تسلی کابتایا ہم نے اب دو باتیں رہ گئی ہیں کہ جن کا جواب دینا ہمارے ذمہ باقی ہے ایک تو یہ کہ اسلام کی تعلیم کیسی ہے اور دوسرے یہ کہ اس میں الہام کا سلسلہ جاری ہے یا نہیں پس پہلی بات کا جواب یہ ہےکہ اسلام کی تعلیم جیسی اور کسی مذہب کی تعلیم نہیں کیونکہ اسلام نے تعلیم میں ہر ایک بات کا لحاظ رکھا ہے اور ہم پر دو حقوق فرض رکھے ہیں ایک تو حقوق اللہ اور دوسرے حقوق العباد اور یہی دوحقوق ہیں کہ جن پر کسی مذہب کا انحصار ہوتاہے کیونکہ انسان کو اپنی زندگی میں صرف دو تعلقات سے کام پڑتا ہے ایک تو وہ تعلق جو کہ خدا سے ہو تا ہے اور دو سراوہ جو اس کو دوسری چیزوں سے