انوارالعلوم (جلد 1) — Page 72
انوار العلوم جلد 1 ۷۲ محبت الهی لیکن انہوں نے شرک کی بیخ کنی بھی نہیں کی اور نہ ہی توحید پر زور دیا ۔ ہندو توحید کو ماننے کے ساتھ ساتھ بت پرستی بھی لازم قرار دیتے ہیں اور آریہ جو کہ توحید پر اپنا پورا یقین بتاتے ہیں۔ روح اور مادہ کو از لی مان کر عملی طور سے اس کا انکار کرتے ہیں۔ یہ؟ فخر صرف اسلام کو ہی ہے کہ وہ خدا کا شریک کسی کو نہیں ٹھہراتا اور شرک کی بیخ کنی کرتے ہوئے توحید پر زور دیتا ہے ہاں صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو کہ عملی طور سے توحید کو قائم کر تابت پرستی سے باز رکھتا اور خدا کی طرح کسی کو ازلی ابدی نہیں قرار دیتا۔ اگر چہ تمام مذاہب نے توحید کو چھوڑ دیا لیکن اسلام کے خدا نے ہر ایک مسلمان کے دل میں اس عقیدہ کو اس طرح داخل کر دیا ہے کہ وہ نکل ہی نہیں سکتا خود خداتعالیٰ کا نام ہی اسلام میں وہ رکھا گیا ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہو سکتا۔ وہ نام اللہ ہے یعنی تمام نیک صفات خوبیوں اور طاقتوں کا مجموعہ اور یہ نام کسی اور مذہب نے اپنے خدا کو نہیں دیا۔ یہ ایک ایسا پیارا نام ہے جو کہ اس ذات پاک کی تمام خوبیوں اور احسانوں کو انسان کے دل پر یک دم اس طرح نقش کر دیتا ہے کہ اس میں سے محبت کا ایک تیز شعلہ نکل کر اس دوئی یا شرک کو جلا دیتا ہے جو کہ انسان کے ساتھ ایک خفیہ دشمن کی طرح لگا رہتا ہے اور ایک صلاحیت رکھنے والا انسان اس نام کو اپنی زبان پر لا کر بے چین ہو جاتا اور محبت کے درد کو محسوس کرتا ہے کیونکہ معاً اس کو خداتعالیٰ کی خوبیاں اور اس کے محاسن کا ایک مختصر نقشہ یاد آتا ہے ۔ وہ خدا تعالیٰ کی طاقتوں پر نظر کرتا ہے تو اس کی بڑائی جبروت شوکت اور صولت کو دیکھ کر حیرت میں آجاتا ہے اور دنگ رہ جاتا ہے اور جب اپنی کمزوری بے بساطی بے کسی بے بسی پر نظر کرتا ہے تو حیرت تعجب اور دبدبہ محبت کی گداز کر دینے والی گرم جوشی میں بدل جاتے ہیں اور اس وقت انسان نہیں جانتا کہ میں اس محبت کو کس طرح ظاہر کروں اور وہ محبت ایسی زبردست ہوتی ہے کہ انسانی دل میں سما نہیں سکتی اور آخر آنسوؤں کے رنگ میں اس کو کسی قدر ٹھنڈا کیا جاتا ہے پھر انسان خدا تعالیٰ کی بزرگی پاکی اور قدوسیت پر نظر کرتا ہے اور ساتھ ہی اپنی گنگاری غفلت اور سستی کو جانچتا ہے تو پھر وہی پہلی حالت اس پر طاری ہو جاتی ہے اور وہ خیال کرتا ہے کہ اس مشت خاک پر یہ احسانات سوائے اس رحیم و کریم ذات کے اور کون کر سکتا ہے اور کس کی طاقت ہے کہ ہمارے گناہوں کو بخشے اور پھر ساتھ اس قدر انعامات کرے کہ زبان تو الگ رہی اگر ہزار سال تک ہمارا ہر ایک ذرہ ان کو گئے تو بھی نا ممکن ہے کہ گن سکے ۔ غرضیکہ اللہ کا نام زبان پر آتے ہی انسان کے دل و دماغ محبت کی زنجیر میں پروئے جاتے ہیں اور جتنا اس نام کی وسعت پر غور کرو اتناہی اسلام کی سچائی کا یقین دل میں پختہ